تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 44 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 44

ریت - جلد 44 خلافت ثانیہ کا پندرھواں سال اعتراضوں کا بھی اصولی رنگ میں جواب دیا۔جو حضور کی مقدس زندگی پر کئے جاتے ہیں۔یہ تقریر آٹھ بجے ختم ہوئی۔اور حضور نے دعا کے بعد جلسہ کا اختتام فرمایا۔حضور کا یہ لیکچر بہت مقبول ہوا اور اس کا پہلا ایڈیشن جو پانچ ہزار کی تعداد میں شائع کیا گیا بہت جلد ختم ہو گیا اور اسے دوبارہ چھپوانا پڑا۔ملک غلام فرید صاحب ایم۔اے نے اس لیکچر کا انگریزی میں ترجمہ کیا جو ریویو آف ریلیجہ (انگریزی) میں بھی شائع ہو گیا۔اوپر ذکر آچکا ہے کہ حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ انعامات لینے والے غیر مسلم نے ارشاد کے مطابق اعلان کیا گیا تا کہ جوغیرمسلم سیرت النبی پر مضمون بھیجیں گے ان میں سے درجہ اول و دوم و سوم کو انعامات تقسیم کئے جائیں گے۔اس وعدہ کے مطابق درجہ اول کا انعام رائے بہادر لالہ پارس داس صاحب آنریری مجسٹریٹ ریلی کو درجہ دوم کا انعام بھائی گیانی کرتا دینگھ صاحب ساکن کھاریاں ضلع گجرات کو اور درجہ سوم کا انعام لالہ بھگت رام صاحب جیودیا پر چارک چھاؤنی فیروز پور نے حاصل کیا۔2 در اصل انعام کا اعلان کرتے ہوئے یہ خیال کیا گیا تھا کہ غریب طبقہ کے لوگ اس تحریک میں حصہ لیں گے اس لئے انعام کی رقم بھی مقرر کردی تھی مگر خدا کے فضل سے اس تحریک میں دس بڑے بڑے معزز لوگوں نے حصہ لیا اور سب سے اول انعام جسے ملاوہ آنریری مجسٹریٹ اور بہت معزز آدمی تھے اس لئے اس رقم کو تحفہ کی صورت میں بدلنا پڑا۔آنحضرت کے خاتم النبین ہونے پر سلیم اخبارات نے سیرت النبی کے جلسوں کے حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کا حلفیہ بیان مخالفین پر سخت تنقید کی تھی۔مگر یہ اصحاب اپنی روش کو بدلنے یہ آمادہ نہ ہوئے اور انہوں نے اپنے تئیں حق بجانب ثابت کرنے کے لئے حضرت خلیفتہ المسیح الثانی اور جماعت احمدیہ کے خلاف اپنا یہ الزام پھر دہرایا کہ دراصل آپ ختم نبوت پر ایمان نہیں رکھتے۔لہذا ان کا یوم خاتم النبین منانا دنیا کو دھوکہ دینا ہے۔اس افسوسناک غلط فہمی کے پھیلانے پر حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایده اللہ تعالیٰ نے ۳/ اگست ۱۹۲۸ء کے الفضل میں مفصل مضمون شائع کیا۔جس میں آنحضرت اوی کے خاتم النبیین ہونے پر مندرجہ ذیل حلفیہ بیان شائع فرمایا۔میں رسول کریم ﷺ کو خاتم النسین یقین کرتا ہوں اور اس پر میرا ایمان ہے قرآن شریف کے ایک ایک شوشہ کو میں صحیح سمجھتا ہوں اور میرا یقین ہے کہ اس میں کسی قسم کا تغیر نا ممکن ہے۔جو لوگ قرآن شریف کو منسوخ قرار دیں یا اس کی تعلیم کو منسوخ قرار دیں میں انہیں کافر سمجھتا ہوں