تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 672
تاریخ احمدیت۔نیت معدن 644 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیہ ضرورت کو نہیں سمجھا لیکن دیسے میں ان ممبروں کی خواہش سے متفق ہوں۔اور وہ ممبران جو کمیٹی کے اجلاسوں میں شریک ہوتے رہتے ہیں ان میں سے بعض کو شاید یاد ہو کہ میں نے گذشتہ سال ایک اجلاس کے موقعہ پر خود یہ خواہش ظاہر کی تھی۔کہ اب ایک سال گذر چکا۔اس کے عہدہ داروں کا نیا انتخاب ہو جانا چاہئے۔لیکن ان ہی ممبروں میں سے جن کے دستخط مذکورہ بالا تحریر پر ثبت ہیں بعض نے یہ خیال ظاہر کیا تھا جس کی کسی دوسرے ممبر نے تردید نہیں کی تھی کہ آل انڈیا کشمیر کمیٹی کوئی مستقل کمیٹی نہیں بلکہ ایک عارضی کام کے لئے تھوڑے عرصہ کے لئے اس کا قیام ہوا ہے اس لئے اس کے عہدہ داروں کا سالانہ انتخاب ضروری نہیں۔غرض میں ان احباب کی خواہش سے متفق ہوں اور آئندہ انتخاب کے لئے راستہ صاف کرنے کی غرض سے اور اس امر کو مد نظر رکھتے ہوئے کہ اب کشمیر کمیٹی کے کام کی نوعیت بہت کچھ بدل گئی ہے میں آل انڈیا کشمیر کمیٹی کی صدارت سے مستعفی ہوتا ہوں میں اس موقعہ پر یہ بھی اپنا فرض سمجھتا ہوں۔کہ آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے ممبروں کا شکریہ ادا کروں۔انہوں نے باوجود قسم قسم کے مشکلات کے حتی الوسع تعاون سے کام لیا۔اور کئی مواقع پر میری خواہش کی بناء پر اپنی آرا کو ایک ایسے دائرہ میں محدود کر دیا جو اتحاد کے لئے ضروری تھا۔اس بیان کے پڑھے جانے کے بعد حسب ذیل قرار دادیں پاس کی گئیں۔۲- آل انڈیا کشمیر کمیٹی کا یہ جلسہ سول اینڈ ملٹری گزٹ" میں شائع شدہ بیان سے کہ آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے متعدد ارکان نے ایک درخواست اس امر کی بھیجی ہے کہ آئندہ کمیٹی کا صدر غیر قادیانی ہوا کرے قطعی علیحدگی کا اظہار کرتا ہے نیز یہ جلسہ اپنا فرض سمجھتا ہے کہ حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب نے مسلمانان کشمیر کے لئے جو گراں بہا اور مخلصانہ خدمات انجام دی ہیں ان پر آپ کا دلی شکریہ ادا کرے۔۔اس حقیقت کے پیش نظر کہ حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب نے بذات خود آل انڈیا کشمیر کمیٹی کا استعفیٰ پیش کر دیا ہے کمیٹی افسوس کے ساتھ ان کا استعفیٰ قبول کرتی ہے۔۴۔یہ جلسہ ڈاکٹر سر محمد اقبال کو آل انڈیا کشمیر کمیٹی کا قائم مقام صد ر اور ملک برکت علی صاحب ایڈووکیٹ لاہور کو آئندہ انتخابات تک قائم مقام سیکرٹری مقرر کرتا ہے۔استعفی کا رد عمل کشمیر میں حضرت خلیفہ البیع الثانی ایدہ اللہ تعالی کے مستعفی ہونے کے بعد پھر مسلمانان کشمیر جبر و تشدد کا تختہ مشق بننے لگے۔اور حکومت کشمیر نے چند ہفتے بعد وسیع پیمانے پر گر فتاریاں شروع کر دیں اس دوران میں شیخ محمد عبد اللہ صاحب کو