تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 673
تاریخ احمدیت۔جلد ۵ 645 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیہ اپنی گرفتاری کے احکام کی خبر ہوئی تو انہوں نے حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کی خدمت میں مندرجہ ذیل مکتوب لکھا:- سرینگر ۳۱ / مئی ۶۳۳ ZAY محترم میاں صاحب! السلام علیکم و رحمتہ اللہ کل شام کو میری گرفتاری کے احکام نکلے ہوئے ہیں لیکن رات کو میں گرفتار نہ ہو سکا کیونکہ میں گھر پر نہ تھا یہ سب کچھ مہتہ کرتار سنگھ اور۔۔۔کی مہربانی ہے۔لہذا میں مختصرا عرض کرتا ہوں کہ آپ خدارا ایک بار پھر مظلوم کشمیریوں کو بچائے۔اور اپنے کارکن روانہ کریں۔۔۔وائسرائے پر دباؤ ڈال دیجئے گا بہر حال آپ سب کچھ جانتے ہیں مجھے امید ہے کہ آپ ایک وفادار دوست کو امداد کے بغیر ہرگز نہیں چھوڑیں گے فقط آپ کا شیخ محمد عبد اللہ "۔مکتوب لکھنے کے معابعد شیخ صاحب اور ان کے دو رفقاء غلام محمد بخشی اور خواجہ غلام نبی صاحب گل کار گرفتار کر لئے گئے۔ان زعماء نے جیل خانہ کی طرف جاتے ہوئے اپنے دستخطوں سے مندرجہ ذیل تحریر حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالٰی کو لکھی جو مولوی عبد الاحد صاحب (ہزاروی) نے حضور کی خدمت میں پہنچادینے بحضور امام جماعت احمدیہ - قادیان السلام علیکم ورحمتہ وبر کاتہ۔ہم اس حیثیت سے کہ کشمیر کے مظلوم ہیں اور ہمارا جرم صرف اسلام ہے ہم حضور سے بحیثیت امام جماعت احمدیہ ہونے کے طالب امداد ہیں۔حضور ہماری امداد فرما کر عند اللہ ماجور ہوں۔گو ہمیں اس امر کا از حد صدمہ ہے کہ حضور نے اپنا دست شفقت بعض کم فہم احباب کی وجہ سے ہمارے سر پر سے اٹھالیا۔مگر آپ کی ذات سے ہمیں پوری امید ہے کہ حضور اس آڑے وقت میں ہماری راہنمائی فرما کر ہمیں ممنون و مشکور فرما دیں گے۔اور ہمارے لئے ساتھ ہی دعا بھی فرما دیں۔و السلام - مفصل حالات صوفی عبد الاحد صاحب تحریر کریں گے۔جیل جاتے وقت عریضہ لکھا گیا۔کسی بھی قسم کی غلطی ہو تو معافی کے خواستگار ہیں۔خاکساران Ghulam Mohammad Bukhshi 31۔5۔33 S۔M۔Abdullah 31۔5۔33۔Ghulam Nabi۔31۔5۔33 شیخ عبد اللہ صاحب کی گرفتاری کے چند روز بعد چودھری غلام عباس صاحب اور عبد المجید صاحب قرشی قید کر دیئے گئے اور ان کی طرف سے بھی حضور کی خدمت میں ایک درخواست موصول ہوئی جو