تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 671
تاریخ احمدیت۔جلد ۵ پرو 643 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیہ وہ دنیائے اسلام کبھی فراموش نہیں کر سکتی لیکن کچھ عرصہ سے در پر وہ یہ کوشش جاری رہی ہے کہ کسی طرح موجودہ صدر کو علیحدہ کر دیا جائے۔ہمیں ابھی تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ اس پروپیگنڈہ کا بانی کون ہے اور کس اصول پر یہ سوال اٹھایا گیا بہر کیف ہمیں اس وقت پتہ چلا ہے جب یہ پروپیگنڈہ کامیاب ہو چکا ہے ایک تحریر اس مضمون کی لکھی گئی ہے کہ کشمیر کمیٹی کا ایک خاص اجلاس منعقد کیا جائے جس میں عہدہ داروں کو دوبارہ منتخب کیا جائے یہ محض دھوکہ ہے حقیقت یہ ہے کہ وہ صرف صدارت ڈاکٹر اقبال کے سپرد کرنا چاہتے ہیں اور خود اقبال کی بھی یہی خواہش ہے سیکرٹری وہی رہے گا جو پہلے ہے اس تحریر پر انفرادی طور پر ہر ایک رکن سے علیحدگی میں دستخط کرالئے گئے ہیں اور تمام اراکین نے اس پر دستخط کر دیئے ہیں کہ واقعی عہدہ داروں کا انتخاب دوبارہ عمل میں آنا چاہئے صرف ہم دونوں یعنی عبد القادر اور علم الدین سالک نے تاحال اس پر دستخط نہیں کئے لیکن ہمارا دستخط نہ کرنا آئینی لحاظ سے غلط ہے لہذا ہم دونوں بھی دستخط کر دیں گے۔۔۔سوائے اس کے چارہ نہیں ہے۔رہا یہ معاملہ کہ آپ کو کیا کرنا چاہئے سو آپ کی خدمت میں کوئی رائے پیش کرنا ایک بہت بڑی گستاخی کے مترادف ہے۔آپ بهترین مدبر ہیں تاہم یہ عرض کر دینا ضروری خیال کرتے ہیں کہ آپ۔۔۔۔ابھی اجلاس منعقد نہ ہونے دیں تھوڑے عرصہ تک بہت سے اراکین پہاڑ پر چلے جائیں گے اس عرصہ میں ہمیں بھی کوشش کا موقعہ مل جائے گا۔اور ہم پھر اراکین کی اکثریت اپنی طرف کرلیں گے۔مگر حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے ان کی یہ تجویز قبول نہ فرمائی اور ۷ / مئی ۱۹۳۳ء کو سیسل ہوٹل لاہور میں ایک ہنگامی اجلاس بلوایا جس میں حسب ذیل ممبران شامل ہوئے ڈاکٹر سر محمد اقبال صاحب ، ملک برکت علی صاحب ، حاجی شمس الدین صاحب سید محسن شاہ صاحب خان بهادر حاجی رحیم بخش صاحب مولوی عبدالمجید صاحب سالک، مولوی غلام مصطفے صاحب، ڈاکٹر عبد الحق صاحب سید عبد القادر صاحب، پروفیسر علم الدین صاحب سالک۔میاں فیروزالدین احمد صاحب۔پیر اکبر علی صاحب۔چوہدری اسد اللہ خان صاحب مولانا جلال الدین صاحب شمس۔ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب چوہدری محمد شریف صاحب مولوی عصمت اللہ صاحب اور شیخ نیاز علی صاحب اس اجلاس میں حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالٰی نے مندرجہ ذیل تحریر سنائی : " مجھے آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے تیرہ ممبروں کے دستخط سے ایک تحریر ملی ہے جس میں اس امر کی خواہش ظاہر کی گئی ہے کہ میں پندرہ دن کے اندر کشمیر کمیٹی کا ایک اجلاس اس غرض سے منعقد کروں کہ کمیٹی کے عہدہ داروں کا نیا انتخاب کیا جائے گو میں اپنے گذشتہ طریق عمل کو مد نظر رکھتے ہوئے کہ میں نے کبھی کسی ایک ممبر کی خواہش کو بھی کمیٹی کے بارہ میں پس پشت نہیں ڈالا اس قدر دستخطوں کی