تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 636 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 636

تاریخ احمد بیت - جلد ۵ 624 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیہ قائم ہو سکے۔لیکن اگر ہز ہائیں کسی مصلحت کی وجہ سے ان امور پر غور کرنے کے لئے تیار نہیں تو محض ایک رسمی ملاقات باوجود اس ادب و احترام کے جو میرے دل میں ہز ہائینس کا ہے میں کہہ سکتا ہوں کہ کوئی مفید نتیجہ پیدا نہیں کر سکتی۔میں خط ختم کرنے سے پہلے یہ بات بھی کہہ دینا چاہتا ہوں کہ میرا یہ مطلب نہیں کہ ہر امر جس صورت میں نمائندوں نے پیش کیا ہے اسی صورت میں اس کے متعلق فیصلہ کیا جائے۔وہ صرف ایک بنیاد ہے لیکن اگر کوئی ایسی راہ نکل آئے جو رعایا کے حقوق کی حفاظت کرتی ہو اور ساتھ ہی دالتی ملک کے احساسات اور ریاست کے حقیقی مفاد بھی اس میں ملحوظ رہتے ہوں تو ایسے تصفیہ پر مجھے کوئی اعتراض نہیں ہو سکتا اور میں ایسے تغیرات کو ملک سے منوانے میں ہر طرح ہز ہائینیس کی حکومت کی امداد کروں گا۔میں امید کرتا ہوں کہ آپ ہز ہائینس کو ایسا مشورہ دیں گے کہ کوئی راہ ملک میں قیام امن کی نکل آئے گی۔ورنہ مجھے ڈر ہے کہ ایک لمبے عرصہ تک ایجی ٹیشن کے جاری رہنے کے بعد ایک طبقہ کو ایجی ٹیشن کی عادت ہی نہ پڑ جائے۔جس کے بعد کوئی حق بھی ایسے لوگوں کو تسلی نہیں دے سکتا۔یہ حالت ملک اور حکومت دونوں کے لئے نہایت خطرناک ہوتی ہے اور عظیم الشان انقلابات کے بغیر ایسی حالت نہیں بدلا کرتی۔اللہ تعالیٰ ایسے ناگوار تغیرات سے مہاراجہ صاحب بہادر اور ان کی رعایا کو محفوظ رکھے۔خاکسار مرزا محمو د احمد ۳۱/۱/۳۲ مکتوب نمبر ۵ مگر می ماسٹر محمد الدین صاحب السلام م علیکم و رحمتہ اللہ سید ولی اللہ شاہ صاحب بیمار ہیں اور درد صاحب وائسرائے کے ڈیپوٹیشن کے انتظام میں ہیں۔یہ دونوں صاحب کشمیر کا کام کیا کرتے تھے اس لئے ایک ضروری امر کے لئے جس کا پیچھے ڈالنا مصلحت اور ضرورت کے خلاف ہے آپ کو تکلیف دیتا ہوں۔۔۔۔۔کاعلاقہ (نام پوری طرح حافظہ میں نہیں ہے) جموں کی ریاست کا حصہ ہے اور ٹھیکہ پر پونچھ کو لا ہوا ہے اس علاقہ کے لوگوں کی حالت ریاست کشمیر سے بھی خراب ہے۔پونچھ کے لوگوں کو جو آزادیاں ہیں مثلاً بعض اقوام کو کاہ چرائی معاف ہے اس سے یہ لوگ محروم ہیں کہ تم جموں کے باشندے ہو۔جموں میں درختوں وغیرہ کے متعلق جو میرپور کی تحصیل کو آزادی ہے۔۔۔اس سے انہیں محروم رکھا جاتا ہے کہ تم پونچھ کے ماتحت ہو۔