تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 635 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 635

تاریخ احمدیت۔جلده 623 تحریک آزادی کشمیر ا د ر جماعت احمد به تخفیف کی ہے۔لیکن وہ تخفیف بہت کم ہے۔زمیندار پر جو بار ریاست میں اس وقت ہے وہ انگریزی علاقہ کے زمیندار کے بار سے بہت زیادہ ہے۔حالانکہ جو قیمت انگریزی علاقہ کے زمیندار کو اپنی پیداوار پر ملتی ہے اس سے بہت کم ریاست کے زمیندار کو اپنی پیداوار پر ملتی ہے۔پس ان حالات کی طرف فوری توجہ کی ضرورت ہے۔اگر ریاست ایک سال کے لئے عارضی طور پر جب تک کہ گلنسی کمیشن کی رپورٹ پیش ہو کہ اس پر غور کیا جا سکے۔ریاست کے زمینداروں کا بار تمام ٹیکسوں کو مد نظر رکھتے ہوئے انگریزی علاقہ کے بار کے مطابق کم کر دے تو نہ صرف یہ ایک انصاف کا کام ہو گا بلکہ اس سے رعایا اور رائی کے تعلقات کے درست ہونے میں یقیناً بہت کچھ مدد ملے گی۔دوسرا تغیر جو بعد کے حالات سے پیدا ہوا ہے وہ جموں اور میر پور کے سیاسی قیدیوں کا سوال ہے۔جب گاندھی اردن پیکٹ ہوا تھا تو تمام سیاسی قیدی حکومت برطانیہ نے بغیر کوئی معاہدہ لینے کے چھوڑ دیئے تھے۔ریاست نے رعایا سے صلح تو کی لیکن قیدیوں کو نہیں چھوڑا اس کی وجہ سے ان قیدیوں کے دوستوں اور ساتھیوں کا دباؤ لیڈروں پر پڑ رہا ہے اور تعاون کی کارروائی پوری طرح نہیں ہو سکتی۔میرے نزدیک یقینا ریاست کا اس میں فائدہ ہے کہ وہ ان قیدیوں کو چھوڑ دے۔اگر وہ لوگ نئی فضا سے فائدہ نہ اٹھا ئیں تو انہیں پھر گرفتار کیا جا سکتا ہے۔اور اس وقت یقینا رعایا کا سمجھدار طبقہ ریاست کے ساتھ ہوگا۔ایک نیا تغیر گلنسی کمیشن کے قیام کی وجہ سے پیدا ہوا ہے اور وہ یہ ہے کہ مسلمان اس کی موجودہ ترکیب سے مطمئن نہیں لیکن جو کچھ پہلے ہو چکا وہ تو خیر ہو چکا آئندہ ایک نئی کمیشن قانون اساسی کے متعلق مقرر کی جائے گی۔اس کی ترکیب سے پہلے مسلمانوں کے احساسات کو معلوم کر کے ان کا خیال رکھ لینا ضروری امر ہے۔ولال کمیشن کے مسلمان مخالف تھے لیکن دلال کمیشن کی رپورٹ کا جو حصہ مفید تھا اب تک اس پر بھی عمل نہیں ہوا۔یعنی (1) مسلمانوں کی ملازمتوں کے متعلق کوئی معین احکام جاری نہیں ہوئے۔(۲) اس قسم کے غیر تعلیم یافتہ افسروں کو جن کے بے فائدہ ہونے کے متعلق کمیشن نے رائے ظاہر کی تھی اب تک ہٹایا نہیں گیا۔یہ جملہ امور ایسے ہیں کہ جن پر گفتگو ہو کر کسی مفید نتیجہ کی امید ہو سکتی ہے اور اگر ہز ہائینس ان کے متعلق تبادلہ خیال کا مجھے موقع دیں تو میں ہز ہائینس کی ملاقات کو ایک مبارک بات سمجھوں گا جس سے لاکھوں آدمیوں کے فائدہ کی امید ہو گی۔اور اگر کوئی مفید صورت نکلے تو آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے سامنے اس کا نتیجہ رکھ کر کوشش کروں گا کہ کوئی ایسی صورت نکلے جس سے جلد سے جلد امن 22