تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 637
ار بن احمد بیت - جلده 625 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیہ پھر عجیب بات یہ ہے کہ پونچھ سے مال جموں میں لاتے وقت ریاست پونچھ ان سے کسٹمز و صول کرتی ہے۔اور جب جموں میں آتے ہیں تو پھر در آمد کا ٹیکس انہیں دینا پڑتا ہے۔اس طرح باہر سے لانے والے مال پر پہلے جموں والے اور پھر پونچھ والے کسٹمز لیتے ہیں حالانکہ یہ اصل میں جموں سے وابستہ ہیں اور کٹم کی چوکیاں پونچھ میں ہونی چاہئے تھیں۔جموں کے علاقہ میں مال لانے یا وہاں سے لے جانے پر کوئی ڈیوٹی نہیں ہونی چاہئے تھی۔اس تکلیف سے گھبرا کر ان لوگوں نے پروٹسٹ کیا اور حسب قواعد میرپور جس کے ساتھ اصولاً یہ وابستہ ہیں۔بعض درخت کاٹے اور بوجہ جموں ریاست کے باشندے ہونے کے ڈیوٹی دینے سے انکار کیا تو موجودہ شورش سے فائدہ اٹھا کر ان لوگوں کے فعل کو پونچھ کی حکومت نے سول نافرمانی قرار دیا۔حالا نکہ انہوں نے حکومت جموں کے جس کے یہ باشندے ہیں قانون نہیں توڑے۔بلکہ ان پر اس کے مطابق عمل کیا۔زیادہ سے زیادہ ان پر دیوانی ناشیں کر کے حکومت کو اپنا حق ثابت کرنا چاہئے تھا۔پھر ان پر یہ ظلم ہے کہ یہ جموں کے باشندے ہیں وہیں ان کی رشتہ داریاں ہیں۔لیکن باوجو د جموں کے ساتھ وابستہ ہونے کے ان کے مقدمات پونچھ میں سنے جاتے ہیں۔حالانکہ زمینداری اگر ٹھیکے پر دے دی جائے تو یہ کسی حکومت کو حق نہیں کہ اپنی رعایا کے سول حقوق کسی اور حکومت کو دیدے۔یہ بیل گائے نہیں ہیں کہ ان سے ایسا سلوک روارکھا جائے۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسٹر کالون نے ان لوگوں کو مسٹر جار ڈین کے پاس شکایات سنانے کو بھیجا تو انہوں نے انکار کر دیا۔اس بناء پر کہ یہ علاقہ جموں میں نہیں پونچھ میں ہے حالانکہ حقیقتاً یہ جموں کا علاقہ ہے۔آپ نے ان امور کو مسٹر کالون پر روشن کر کے یہ کوشش کرنی ہے کہ اس رد عمل کو دور کیا جائے۔اگر پونچھ کو جموں نے امداد دینی ہے تو روپیہ دے لیں۔یہ لوگ اپنے فروخت کئے جانے پر راضی نہیں۔(1) ان کے مقدمات جموں کو رٹس میں ہوں۔(۲) کسٹمز جموں اور اس کے علاقہ کے درمیان میں نہ ہوں بلکہ پونچھ کی کسٹمز کی چوکیاں ان کے علاقہ کے پرے پونچھ کے علاقہ میں ہوں انہیں کوئی اعتراض نہیں ہے کہ پونچھ کے علاقہ سے ان کے علاقہ میں مال لانے یا وہاں لے جانے پر کسٹمز لی جائیں۔(۳) اس وقت جو مقدمات خواہ مخواہ سول نافرمانی کے اٹھائے گئے ہیں۔محض اس وجہ سے کہ پونچھ دربار اور جموں دربار میں جھگڑا ہے اور یہ لوگ جموں کے ساتھ ہیں۔ان مقدمات کے سننے کے لئے عارضی طور پر جموں سے بج جائیں اور اپیل جموں کو رٹ میں ہو۔(۴) کوئی انگریز افسر مسٹرا تھر یا مسٹر جار ڈین یا اور کوئی افسر ریاست کا خواہ انگریز نہ ہو ان امور کی تحقیق کے لئے جائے اور علاقہ کے لوگوں کو سب حالات اور ثبوت اس کے پاس پیش کرنے کی اجازت ہو۔سرسری کارروائی نہ ہو۔(۵) اس وقت تک مقدمات کی