تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 40
40 A تاریخ اخبار ” پیشوا" دہلی - اخبار پیشوا دیلی (۸ / جولائی ۱۹۲۸ء) نے ۱۷ / جون کے جلسوں کی کامیابی پر خوشی اور اس کے مخالفین پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے لکھا: ۱۷ جون کو قادیانی جماعت کے زیر اہتمام تمام ہندوستان میں فخر کائنات کی سیرت پر ہندوستان کے ہر خیال اور ہر طبقہ کے باشندوں نے لیکچر دئیے اور خوشی کا مقام ہے کہ مسلمان اخبارات نے سوائے زمیندار اور الجمعیت اور الانصار کے متفقہ طور سے ان جلسوں کی کامیابی میں حصہ لیا۔مگر افسوس کہ علماء دیوبند نے ذکر رسول کی مخالفت اس لئے کی کہ ان کو قادیانی عقائد سے اختلاف ہے"۔۱۲۵ " حالانکہ مجھے ذاتی طور سے علم ہے کہ جناب مولانا کفایت اللہ صاحب سے (جو دیوبندی علماء میں بہت سمجھدار عالم مانے جاتے ہیں) جب ایک قادیانی بھائی نے دہلی کے جلسہ کی صدارت کے لئے درخواست کی اور مولانا نے انکار کیا تو انہی قادیانی بھائی نے عرض کیا کہ جناب ہم کو کافر سمجھ کر جلسہ کی صدارت اس طرح قبول کیجئے۔کہ اپنے معتقدات کے خلاف کسی کو بولنے کی اجازت نہ دیجئے۔کیا اس جلسہ میں جو ذکر رسالت پناہ کے لئے کوئی غیر مسلم کرے شریک نہ ہوں گے ؟ اس معقول درخواست کا جواب مفتی صاحب نے یہ دیا کہ میں آپ سے بحث نہیں کرنی چاہتا۔اور نہ میں آپ کے جلسہ میں کسی حال میں شریک ہوں گا " - 1 " مجھے بے حد افسوس ہے کہ زمانہ نے ابھی علماء کی آنکھیں نہیں کھولیں اور ان کی تنگ نظری کی ذہنیت ابھی تبدیل نہیں ہوئی۔قادیانی عقائد کا جہاں تک تعلق ہے میں ان کے ایک ایک حرف سے اختلاف رکھتا ہوں مگر کیا ابھی وہ وقت نہیں آیا ہے کہ مسلمان سناتن دھرم ، جین دھرم بدھ دھرم اور خد ا معلوم کیا کیامت کے پیروؤں کو ہندو مسلھن کی تحریک میں جو خالص آریہ سماجی تحریک ہے مدغم دیکھ کر اپنے بھولے ہوئے سبق اتحاد بین المسلمین کو یاد کرنے کے لئے واعتصموا بحبل اللہ اللہ کی رسی کو مضبوط پکڑیں۔اور جزوی اختلافات کو پس پشت ڈال کر دشمنوں کو ناخوش اور دوستوں کو خوش کرنے کے لئے نہیں بلکہ عزت کی زندگی بسر کرنے کے لئے متحد ہو جائیں میرا خیال ہے کہ تعلیم یافتہ مسلمان معتقدات کی جزئیات سے آزاد ہو کر اتحاد اسلام کے لئے تیار ہیں مگر ملت اسلام کی اس زیر دست تنظیم میں خود پرست اور غرض مند ملا اسلام کی آڑ لے کر حارج ہوتے ہیں جن کو اسلامی تعلیم سے ذرہ برابر واسطہ نہیں اس لئے ضرورت ہے کہ غرض مند ملاؤں سے مسلمانوں کو بچایا جائے"۔