تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 39
تاریخ احمدیت۔جلد ۵ 39 خلافت عثمانیہ کا پندرھو کی شان میں نعتیں پڑھیں یا جلسوں کی صدارت کی یا اہل جلسہ کے لئے شربت کی سبیلیں لگا ئیں یا اپنی تقریروں میں آنحضرت ﷺ کو ان کی پاکیزہ تعلیم اور ان کے اعلیٰ اخلاق و فضائل کی وجہ سے دنیا کا سب سے بڑا محسن ظاہر کیا۔ان میں مقامات ذیل خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔مردان پانی پت ، بہاؤ نگر مونگیر، حیدر آباد دکن ، لاہور امرت سر دہلی کبیر والا (ملتان)) قلعه شب قدر (سرحد) میانی ، ڈیرہ et دون بانکی پور - سرام گورداسپور کھاریاں امراوتی دھرگ (سیالکوٹ) دھرم کوٹ بگه " "اردو اخبار ناگپور ۵- "اردو اخبار " ناگپور (۵ / جولائی ۱۹۲۸ء) نے " جماعت احمدیہ کی قابل قدر خدمات " کی سرخی دے کر مندرجہ ذیل نوٹ لکھا : جماعت احمد یہ ایک عرصہ سے جس سرگرمی سے اسلامی خدمات بجالا رہی ہے وہ اپنے زریں کارناموں کی بدولت محتاج بیان نہیں ہے یورپ کے اکثر ممالک میں جس عمدگی کے ساتھ اس نے تبلیغی خدمات انجام دیں اور دے رہی ہے سچ یہ ہے کہ یہ اسی کا کام ہے پچھلے دنوں جبکہ یکایک شدھی کا ایک طوفان عظیم امنڈ آیا تھا۔اور جس نے ایک دو آدمیوں کو نہیں بلکہ گاؤں کے گاؤں مسلمانوں کو متاثر بنا کر مرتد کر لیا تھا۔یہی ایک جماعت تھی جس نے سب سے پہلے سینہ سپر ہو کر اس کا مقابلہ کیا اور وہ کچھ خدمات انجام دیں اور کامیابی حاصل کی کہ دشمنان اسلام انگشت بدنداں رہ گئے۔اور ان کے بڑھے ہوئے حوصلے پست ہو گئے۔یہ مبالغہ نہیں بلکہ واقع ہے کہ جس ایثار و انہماک سے یہ مختصری جماعت اسلام کی خدمت انجام دے رہی ہے وہ اپنی نظیر آپ ہے اور بلاشبہ اس کے یہ تمام کارنامے تاریخی صفحات پر آب زر سے لکھنے کے قابل ہیں پچھلے دنوں اس کی یہ تحریک کہ حضور سرور کائنات ال کی سیرت پر ۱۷ جون کو ہندوستان کے ہر مقام پر عام مجمع میں جس میں مسلم و غیر مسلم دونوں شامل ہوں تقریریں کی جائیں اور جس کے لئے اس نے صرف تحریک ہی پیش نہیں کی بلکہ صد ہارو پے بھی خرچ کر کے مقررین کے لئے ہزارہا کی تعداد میں لیکچر ز طبع کرا کر مفت تقسیم کئے۔اور جس کا اثر یہ ہوا کہ 17- جون کو مسلم اور غیر مسلم دونوں جماعتوں نے شاندار جلسے کر کے سیرت نبوی پر کمال حسن و خوبی سے اظہار خیالات کئے ہمارا تو خیال ہے کہ اگر اس تحریک پر آئندہ بھی برابر عمل کیا گیا تو یقیناوہ ناپاک حملے جو آج برابر غیر مسلم اقوام ذات فخر موجودات پر کرتی رہتی ہیں ہمیشہ کے لئے مٹ جائیں گے۔اور وہ ناگوار واقعات جو آئے دن پیش آتے رہتے ہیں اس مبارک تحریک کی بدولت نیست و نابود ہو جائیں گے۔۔۔ہم اس شاندار کامیابی پر حضرت امام جماعت احمدیہ مد ظلہ کی خدمت میں دلی مبارکباد پیش کرتے ہیں۔اور یقین دلاتے ہیں کہ آپ کی اس مبارک تحریک نے مسلمانوں کے قدیم فرقوں کو ایک مرکز پر کھڑا کر کے اتحاد کا عجیب و غریب سبق دیا ہے "