تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 626
تاریخ احمدیت جلده 614 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمد ہے پر قابض رہیں۔گویا ایک جماعت کے ہر فرد پر ۳۱/۳ فیصدی آمد خرچ ہو اور دوسری قوم کے ہر فرد پر ۱۰/۱۷ فیصدی آمد خرچ ہو یا دو سرے لفظوں میں ہمیشہ کے لئے کچھ مسلمان اتنا حصہ لیں جتنا کہ ایک غیر مسلم حصہ لے۔یہ تقسیم تو بالبداہت باطل ہے۔اگر سمجھو تہ اس اصول پر نہیں بلکہ اس اصول پر ہے کہ ہر قوم اپنے افراد اور لیاقت کے مطابق حصہ لے۔خواہ مجالس آئین میں ہو خواہ ملازمتوں میں خواہ ٹھیکہ میں۔گو اقلیت کو اس کے حق سے استمالت کے لئے کچھ زیادہ دے دیا جائے اور اس کے ساتھ یہ شرطیں ہوں کہ اقلیت کے مذہب اس کی تہذیب اور تمدن کی ہمیشہ حفاظت کی جائے گی۔تو یہ ایک جائز اور درست اور منصفانہ معاہدہ ہو گا۔مگر جہاں تک میں نے اخبارات سے پڑھا ہے ایسا کوئی معاہدہ مسلمانان کشمیر اور دیگر اقوام میں نہیں ہوا۔اور نہ میں سمجھ سکا ہوں کہ موجودہ حالات میں وہ اقوام جو ملازمتوں اور ٹھیکوں اور دوسرے حقوق پر قابض ہیں وہ اس آسانی سے اپنے حاصل کردہ فوائد مسلمانوں کو واپس دینے کے لئے تیار ہو جائیں گی۔اور اگر ایسا نہیں کیا گیا تو لا زمانیہ اتحاد بعد میں جا کر فسادات کے بڑھ جانے کا موجب ہو گا۔اگر کوئی کامیابی ہوئی اور مسلمانوں نے اپنے حقوق کا مطالبہ کیا تو غیر مسلم اقوام کہیں گی کی جدوجہد تو صرف اختیارات پبلک کے ہاتھ میں لانے کے لئے تھی۔سودہ آگئے ہیں۔کسی قوم کو خاص حق دینے کے متعلق تو تھی ہی نہیں۔ہم بھی کشمیری تم بھی کشمیری۔ملازمت ہمارے پاس رہی تو کیا۔تمہارے پاس رہی تو کیا۔جو لوگ عہدوں پر ہیں وہ زیادہ لائق ہیں۔اس لئے قوم کا کوئی سوال نہیں اٹھانا چاہئے۔کہ اس میں ملک کا نقصان ہے اور اگر مسلمانوں کا زور چل گیا اور انہوں نے مسلمانوں کو ملازمتوں، ٹھیکوں وغیرہ میں زیادہ حصہ دینا شروع کیا تو دوسری اقوام کو رنج ہو گا اور وہ کہیں گی کہ پہلے ہم سے قربانی کروائی۔اب ہمیں نقصان پہنچایا جارہا ہے۔اور ایک دوسرے پر بدظنی اور بد گمانی شروع ہو جائے گی اور فتنہ بڑھے گا گھٹے گا نہیں۔او ر اب تو صرف چند وزراء سے مقابلہ ہے پھر چند وزراء سے نہیں بلکہ لاکھوں آدمیوں پر مشتمل اقوام سے مقابلہ ہو گا۔کیونکہ حقوق مل جانے کی صورت میں اس قوم کا زور ہو گا جو اس وقت ملازمتوں وغیرہ پر قائم ہے خواہ وہ تھوڑی ہو اور وہ قوم دست نگر ہو گی۔جو ملازمتوں میں کم حصہ رکھتی ہے خواہ وہ زیادہ ہو۔اور یہ ظاہر ہے کہ چند وزراء کو قائل کر لینا آسان ہے۔مگر ایسی جماعت کو قائل کرنا مشکل ہے جس کی پشت پر لاکھوں اور آدمی موجود ہوں کیونکہ گو وہ قلیل التعداد ہو حکومت اور جتھا مل کر اسے کثیر التعداد لوگوں پر غلبہ دے دیتا ہے اور سیاسی ماہروں کا قول ہے کہ نہ مقید بادشاہ کی حکومت ایسی خطرناک ہوتی ہے نہ غیر ملکی قوم کی۔جس قدر خطرناک کہ وہ حکومت ہوتی ہے جس میں قلیل التعداد لیکن متحد قوم اکثریت پر حکمرانی کر رہی ہو۔کیونکہ اس کا نقصان ملک کے اکثر حصہ کو پہنچتا ہے۔لیکن اس