تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 625
تاریخ احمدیت۔جلد ۵ 613 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیہ نہیں کیا جا سکتا۔جب یہ امر ظاہر ہو گیا تو ہمیں سوچنا چاہئے کہ کشمیر کی تحریک کوئی مذہبی تحریک ہے یا سیاسی- اگر سیاسی ہے تو ہمیں غور کرنا چاہئے کہ وہ کون سے فوائد ہیں جن کے لئے اہل کشمیر کو شاں ہیں خصوصاً مسلمان؟ اس سوال کا جواب میں سمجھتا ہوں با آرام ہر کشمیری یہ دے گا کہ اس کی جدوجہد صرف اس لئے ہے کہ اس کی بآرام اور خوش زندگی کا سامان کشمیر میں نہیں ہے۔نہ اس کی تعلیم کا اچھا انتظام ہے نہ اس کی زمینوں کی ترقی کے لئے کوشش کی جاتی ہے نہ اسے حریت ضمیر حاصل ہے نہ اس کی اس آبادی کے اچھے گزارہ کے لئے کوئی صورت ہے۔جس کا گزارہ زمین پر نہیں بلکہ مزدوری اور صنعت و حرفت پر ہے اور نہ اس کی تجارتوں اور کار خانوں کی ترقی کے لئے ضرورت کے مطابق جدوجہد ہو رہی ہے۔نہ اسے اپنے حق کے مطابق سرکاری ملازمتوں میں حصہ دیا جا رہا ہے۔اور ان لوگوں میں سے جن کے ذریعہ سے حکومت تاجروں ، ٹھیکہ داروں وغیرہ کو نفع پہنچایا کرتی ہے۔اور نہ مجالس قانون ساز میں ان کی آواز کو سنا جاتا ہے۔یہ مطالبات مسلمانان ریاست جموں و کشمیر کے ہیں۔اور یہی مطالبات قریباً ہر افتادہ قوم کے ہوتے ہیں۔یہ امر ظا ہر ہے کہ وہی سکیم مسلمانان کشمیر کے لئے مفید ہو سکتی ہے جو اوپر کی اغراض کو پورا کرے۔اور دوسری کوئی سکیم انہیں نفع نہیں دے سکتی پس میرے دل میں یہ سوال پیدا ہو تا ہے کہ یہ نیا اتحاد جو مسلمانوں کے ایک طبقہ کا بعض دوسری اقوام سے ہوا ہے۔کیا اس غرض کو پورا کرتا ہے؟ ہر ایک شخص جانتا ہے کہ مسلمانوں کو بہت بڑا نقصان ملازمتوں اور ٹھیکوں وغیرہ میں اور مجالس آئینی میں تناسب کے لحاظ سے حصہ نہ ملنے کی وجہ سے پہنچ رہا ہے اور یہ بھی ہر شخص جانتا ہے کہ ان ملازمتوں پر سوائے چند ایک بڑے افسروں کے ریاست ہی کے باشندے قابض ہیں۔جو غیر مسلم اقوام سے تعلق رکھتے ہیں۔اور یہی حال ٹھیکوں کا ہے۔وہ بھی اکثر مقام میں غیر مسلم اصحاب کے ہاتھوں میں ہے۔اسی طرح مجالس آئینی میں بھی مسلمانوں کا حق زیادہ تر ریاست کشمیر کے غیر مسلم باشندوں کے ہاتھ میں ہی ہے۔ان حالات میں لازماًیہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ان اقوام نے اپنے حاصل کردہ منافع مسلمانوں کے حق میں چھوڑ دینے کا فیصلہ کر دیا ہے۔اگر نہیں تو یہ سمجھوتہ کس کام آئے گا۔اگر اس تمام جدوجہد کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ مہاراجہ صاحب بہادر کے ہاتھ سے اختیار نکل کر رعایا کے پاس اس صورت میں آجاتے ہیں کہ نہایت قلیل اقلیت نے نصف یا نصف کے قریب نمائندگی پر قابض رہنا ہے اور اسی طرح ملازمتوں اور ٹھیکوں وغیرہ میں بھی اسے یہی حصہ ملنا ہے تو اس کے معنے یہ ہیں کہ پندرہ فیصدی باشندے پچاس فی صدی آمد پر قابض رہیں۔اور پچاسی فیصدی باشندے بھی پچاس فیصدی آمد