تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 627
تاریخ احمدیت جلده 615 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمد یہ کا ازالہ کوئی نہیں ہو سکتا۔دنیا کی تاریخ کو دیکھ لو کہ ایسی حکومتیں ہمیشہ دیر پا رہی ہیں اور انہوں نے اکثریت کو بالکل تباہ کر دیا ہے۔ہندوستان میں ہی اچھوت اقوام کو دیکھ لو کہ ایک زبر دست اکثریت سے اب وہ اقلیت میں بدل گئی ہے۔اور ان کے حالات جس قدر خراب ہیں وہ بھی ظاہر ہیں۔پس میرے نزدیک بغیر ایک ایسے فیصلہ کے جسے پبلک پر ظاہر کر دیا جائے ایسا سمجھو تہ مفید نہیں ہو سکتا۔کیونکہ نفع یا نقصان تو پبلک کے ساتھ تعلق رکھتا ہے۔ممکن ہے غیر مسلم لیڈر مسلمانوں کو بعض حق دینے کے لئے تیار ہو جائیں لیکن ان کی قومیں تسلیم نہ کریں۔پھر ایسے سمجھوتے سے کیا فائدہ یا مسلمان لیڈر بعض حق چھوڑنے کا اقرار کر لیں۔لیکن مسلمان پبلک اس کے لئے تیار نہ ہو اور ملک کی قربانیاں را نگاں جائیں اور فساد اور بھی بڑھ جائے۔جہاں تک میں سمجھتا ہوں کوئی سمجھوتہ مسلمانوں کے لئے مفید نہیں ہو سکتا جب تک وہ لاکھوں مسلمانوں کی بدحالی اور بے کاری کا علاج تجویز نہ کرتا ہو یعنی ان کی تعداد کے قریب قریب انہیں ملازمتوں اور ٹھیکوں وغیرہ میں حق نہ دلاتا ہو۔جو سمجھو تہ اس امر کو مد نظر نہیں رکھتا وہ نہ کامیاب ہو سکتا ہے اور نہ امن پیدا کر سکتا ہے۔عوام لیڈروں کے لئے قربانی کرنے میں بے شک دلیر ہوتے ہیں لیکن جب ساری جنگ پیٹ کے لئے ہو اور پیٹ پھر بھی خالی کا خالی رہے تو عوام الناس زیادہ دیر تک صبر نہیں کر سکتے اور ان کے دلوں میں لیڈروں کے خلاف جذبہ نفرت پیدا ہو جاتا ہے۔اور ایسے فتنہ کا سد باب کر دینا شروع میں ہی مفید ہو تا ہے۔یہ میرا مختصر مشوره مسلمانان کشمیر کو ہے وہ اپنے مصالح کو خوب سمجھتے ہیں اور سمجھ سکتے ہیں میں تو اب کشمیر کمیٹی کا پریذیڈنٹ نہیں ہوں اور یہ بھی نہیں کہہ سکتا کہ آیا کشمیر کمیٹی کی رائے اس معاملہ میں کیا ہو گی۔لیکن سابق تعلقات کو مد نظر رکھتے ہوئے میں نے مشورہ دینا مناسب سمجھا۔عقلمند وہی ہے جو پہلے سے انجام دیکھ لے۔میرے سامنے سمجھوتہ نہیں نہ صحیح معلوم ہے کہ کن حالات میں اور کن سے وہ سمجھوتہ کیا گیا ہے۔میں تو اخبارات میں شائع شدہ حالات کو دیکھ کر یہ نتیجہ نکالتا ہوں کہ اس کا سمجھوتہ مسلمانوں اور غیر مسلموں میں ہوا ہے۔اور اس کے مطابق اب دونوں قومیں مشترکہ قربانی پر تیار ہو رہی ہیں۔پس میں اتنا کہنا چاہتا ہوں کہ قربانی ایک مقدس شے ہے اور بہت بڑی ذمہ داریاں اپنے ساتھ رکھتی ہے۔مسلمانوں اور غیر مسلموں دونوں کو اچھی طرح سوچ لینا چاہئے کہ وہ کسی امر کے لئے قربانی کرنے لگے ہیں۔اور یہ کہ وہ اس امر کو نباہنے کی طاقت رکھتے ہیں یا نہیں۔اور کہیں ایسا تو نہیں کہ موجودہ سمجھو تہ بجائے پریشانیوں کے کم کرنے کے نئی پریشانیاں پیدا کر دے۔انگریزی کی ایک مثل ہے کہ کڑاہی سے نکل کر آگ میں گرا۔سو یہ دیکھ لینا چاہئے کہ جد وجہد کا نتیجہ یہ