تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 623
تاریخ احمدیت۔جلد ۵ 611 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیہ کو صرف تھوڑے سے حوصلہ کی ضرورت ہے اور اس امر کی ضرورت ہے۔کہ ملک کے غداروں کے دھوکے میں نہ آئیں۔میں پھر آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ جب تک آپ لوگوں میں سے کوئی حصہ بھی میری مدد کی ضرورت کو سمجھے گا۔میں انشاء اللہ ہر ممکن مدد آپ لوگوں کی ترقی کے بارہ میں کرتا رہوں گا والتوفيق من الله واخر دعوانا ان الحمد لله رب العلمين والسلام۔خاکسار مرزا بشیر الدین محمود احمد - قادیان مورخہ ۱۱/ جولائی ۱۹۳۳ء بسم الله الرحمن الرحيم نحمده ونصلى على رسوله الكريم جس مسلم کو یہ مضمون پہنچے وہ اپنے دوسرے مسلمان بھائیوں کو بھی ضرور پہنچاوے اعوذ بالله من الشيطان الرجيم بسم الله الرحمن الرحيم نحمده ونصلى على رسوله الكريم خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ هو الناصر کشمیر ایجی ٹیشن ۱۹۳۸ء کے متعلق چند خیالات اصلاحات کشمیر سے جو میرا تعلق رہا ہے اس کے یاد کرانے کی مجھے ضرورت نہیں۔اس جدوجہد میں جو خدمت کرنے کی مجھے اللہ تعالٰی نے توفیق دی اس کے بیان کرنے کی بھی میں ضرورت محسوس نہیں کرتا۔کیونکہ میرے نزدیک وہ بنیاد جو صرف ماضی پر رکھی جاتی ہے اس قدر مضبوط نہیں ہوتی۔جس قدر وہ جو حال میں اپنی صداقت کا ثبوت رکھتی ہے۔اس لئے میں یہ نہیں کہتا کہ میں نے فلاں وقت کوئی کام کیا تھا۔اس لئے میری بات سنو۔بلکہ اہل کشمیر سے صرف یہ کہتا ہوں کہ میں اب جو کچھ کہہ رہا ہوں اس پر غور کریں اور اگر اس میں سے کوئی بات آپ کو مفید نظر آئے تو اس سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں۔جب میں نے کام شروع کیا تھا اس وقت کشمیر ایجی ٹیشن کو بظاہر فرقہ وارانہ تھا۔مگر جو مطالبات پیش کئے جاتے تھے وہ فرقہ وارانہ نہ تھے۔زمینوں کی واگزاری کا فائدہ صرف مسلمانوں کو نہ پہنچتا تھا۔نہ پریس اور پلیٹ فارم کی آزادی کا تعلق صرف مسلمانوں سے تھا۔نہ حکومت کے مشوروں میں شراکت