تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 624 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 624

تاریخ احمدیت جلد ۵ 612 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیہ میں مسلمانوں کو کوئی خاص فائدہ تھا۔ملازمتوں کا سوال ایک ایسا سوال تھا جس میں مسلمانوں کے لئے کچھ زائد حقوق کا مطالبہ کیا گیا تھا۔لیکن اسی ۹۰ فی صدی آبادی کے لئے اس کے گم گشتہ حقوق میں سے صرف تھوڑے سے حق کا مطالبہ فرقہ وارانہ مطالبہ نہیں کہلا سکتا۔اس تحریک کا نتیجہ کم نکلا یا زیادہ۔مگر بہر حال کچھ نہ کچھ نکلا ضرور۔اور کشمیر کے لوگ جو سب ریاستوں کے باشندوں میں سے کمزور سمجھے جاتے تھے اس ادنی مقام سے ترقی کر کے ایک ایسے مقام پر کھڑے ہو گئے کہ اب وہ دوسری ریاستوں کے باشندوں کے سامنے شرمندہ نہیں ہو سکتے۔میں نے جو کچھ اسلام سے سیکھا ہے وہ یہ ہے کہ ہمارا ایک سمجھوتہ سچائی پر مبنی ہونا چاہئے۔یہ نہیں کہ ہم ظاہر میں کچھ کہیں اور باطن میں کچھ ارادہ کریں۔ایسے ارادوں میں جن میں سچائی پر بناء نہیں ہوتی۔کبھی حقیقی کامیابی نہیں ہوتی اور کم سے کم یہ نقص ضرور ہوتا ہے کہ آنے والی نسلیں خود اپنے باپ دادوں کو گالیاں دیتی ہیں اور وہ تاریخ میں عزت کے ساتھ یاد نہیں کئے جاتے۔پس میرے نزدیک کسی سمجھوتے سے پہلے ایسے سب امور کا جو اختلافی ہوں مناسب تصفیہ ہو جانا چاہئے تا بعد میں غلط فہمی اور غلط فہمی سے اختلاف اور جھگڑا پیدا نہ ہو۔اس اصل کے ماتحت جب میں نے اس تحریک کا مطالعہ کیا تو مجھے اخباری بیانات سے کچھ معلوم نہیں ہو سکا کہ آیا مسلم و غیر مسلم کے سیاسی سمجھوتے کی مشکلات کو پوری طرح سمجھ لیا گیا ہے یا نہیں اور مسلم و غیر مسلم کے حقوق کے متعلق جو شکایات ہیں ان کو دور کرنے کی تدبیر کرلی گئی ہے یا نہیں۔یہ ایک حقیقت ہے کہ قوموں کی جدوجہد دو غرضوں میں سے ایک کے لئے ہوتی ہے یا تو اس لئے کہ اس قوم نے کوئی پیغام دنیا تک پہنچانا ہوتا ہے۔اس صورت میں وہ عواقب و نتائج کو نہیں دیکھا کرتی۔نقصان ہو یا فائدہ وہ اپنا کام کئے جاتی ہے۔جیسے اسلام کے نزول کے وقت غریب اور امیر سب نے قربانی کی اور اس کی پروا نہیں کی کہ کسے نقصان ہوتا ہے اور کیا ہوتا ہے۔کیونکہ مادی نتیجہ مد نظر نہ تھا۔بلکہ پیغام الہی کو دنیا تک پہنچانا مد نظر تھا۔اس پیغام کے پہنچ جانے سے ان کا مقصد حاصل ہو جاتا تھا۔خواہ دنیا میں انہیں کچھ بھی نہ ملتا۔اور اس پیغام کے پہنچانے میں ناکامی کی صورت میں ان کو کوئی خوشی نہ تھی۔خواہ ساری دنیا کی حکومت ان کو مل جاتی۔یا پھر قومی جد و جہد اس لئے ہوتی ہے کہ کوئی قوم بعض دنیوی تکلیفوں کو دور کرنا چاہتی ہے وہ ہر قدم پر یہ دیکھنے پر مجبور ہوتی ہے کہ جن تکالیف کو دور کرنے کے لئے میں کھڑی ہوئی ہوں وہ اس جدو جہد سے دور ہو سکتی ہے یا نہیں۔اس کی ہر ایک قربانی ایک مادی فائدے کے لئے ہوتی ہے۔اور وہ اس مادی فائدے کے حصول کے لئے جد وجہد کرتی ہے۔تمام سیاسی تحریکیں اس دوسری قسم کی جدو جہد سے تعلق رکھتی ہیں۔اور مادی فوائد کو ان میں نظر انداز