تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 609
تاریخ احمدیت جلد ۵ 597 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدید (۷) جو لوگ جلا وطن کئے گئے ہیں۔یا جن کو کشمیر میں ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے۔ان میں سے بعض کی مالی امداد بھی کی گئی۔(۸) جب بھی لیڈران کشمیر نے خواہش کی انہیں مناسب مشورے دیئے گئے۔غرض یہ کام ہے۔جو گزشتہ ایام میں میں نے کیا ہے۔اور آپ لوگ سمجھ سکتے ہیں کہ یہ کام معمولی کام نہیں۔ہاں اگر نتیجہ اتنا شاندار نہیں نکلا۔جس قدر کہ پہلے نکلا کرتا تھا۔تو اس کے ذمہ دار آپ لوگ ہیں۔میں نہیں۔اول تو اس لئے کہ آپ نے یا آپ میں سے بعض نے سول نافرمانی جاری کر کے میرے ہاتھ باندھ دیئے۔آپ جانتے ہیں کہ میں سول نافرمانی کا سخت مخالف ہوں۔میرے نزدیک سول نافرمانی اسی وقت کامیاب ہو سکتی ہے۔جبکہ حکومت شرافت سے کام لے۔جس دن حکومت کے افسر رعایا کی طرح قانون شکنی پر آمادہ ہو جائیں۔اس دن رعایا کا سب زور ٹوٹ جاتا ہے۔پس اول تو میرے نزدیک سول نافرمانی کامیابی کا ذریعہ ہی نہیں۔دوسرے میرے نزدیک سول نافرمانی مذہباً اور اخلاقا درست نہیں۔کیونکہ اس سے قانون شکنی کی روح پیدا ہوتی ہے۔اور جب یہ روح پیدا ہو جائے۔تو خواہ اپنی ہی حکومت کیوں نہ ہو۔وہ چل نہیں سکتی۔تیسرے یہ کہ اگر سول نافرمانی کو مفید اور جائز بھی سمجھ لیا جائے۔تب بھی میرے نزدیک کشمیر کے لوگ اس کے لئے تیار نہ تھے۔سول نافرمانی کے لئے نہایت وسیع مخفی نظام اور کافی سرمایہ کی ضرورت ہوتی ہے۔مگر جس وقت سول نافرمانی کا اعلان کیا گیا ہے اس وقت اہل کشمیر کو یہ باتیں میسر نہ تھیں۔پس اگر سول نافرمانی کو مفید بھی سمجھ لیا جائے۔تب بھی موجودہ حالات میں اس میں کامیابی ممکن نہ تھی۔سول نافرمانی کے تجربے ہندوستان۔آئرلینڈ - مصر اور فلسطین میں کئے گئے ہیں۔لیکن ایک جگہ بھی کامیابی نہیں ہوئی۔ہندوستان میں مل والوں کی دولت اور گاندھی جی کی شخصیت اس کی تائید میں تھی۔مصر میں سعد زغلول جیسے شخص کی روح کام کر رہی تھی۔آئرلینڈ کو امریکہ جیسے دولت مند ملک کی پشت پناہی حاصل تھی۔اور دو سو سال کی تنظیم ڈی ولیرا کی امداد پر تھی۔فلسطین کی جدوجہد عیسائی اور مسلمانوں کی مشترکہ تھی۔گویا اصلی باشندے اور وہ باشندے جو وہاں قریب زمانہ میں حکومت کر چکے تھے۔وہ مقابلہ پر آمادہ تھے۔مگر بارہ سالہ جد وجہد کے بعد بھی ان لوگوں کو کچھ حاصل نہ ہوا۔سوائے آئرلینڈ کے جس نے تجربہ کے بعد سول نافرمانی کو ترک کر دیا۔اور کونسلوں میں داخل ہو کر ان پر قبضہ کرنے کی کوشش کی۔سو آئرلینڈ میں ڈی دلیرا آج تبدیلی اصول کی وجہ سے حکومت کر رہا ہے اور ہندوستان، فلسطین اور مصر میں سول نافرمانی کے مدوجزر کے بعد حالات پھر وہی کے رہی ہیں۔اور اس کے شیدار مولا پھر کو نسلوں کی طرف رغبت کر رہے ہیں۔غرض سول نافرمانی ایک مشتبہ ہتھیار ہے جو دشمن ہی کو نہیں کبھی اپنے آپ کو بھی ہلاک کر دیتا ہے