تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 610
تاریخ احمدیت۔جلد ۵ 598 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیہ اور اس وقت تک اس کے ذریعہ سے کسی ملک میں کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔کامیابی یا قانونی تعاون سے ہوئی ہے جیسے کہ آئرلینڈ ایران وغیرہ میں۔یا لڑائی سے جیسے کہ جرمنی، اٹلی اور لڑکی میں۔پس اس مضر عمل کی موجودگی میں میں آپ کی کیا امداد کر سکتا تھا۔برطانوی حکام کا ایک ہی جواب تھا۔کہ جب یہ لوگ قانون تو ڑ رہے ہیں۔تو حکام سوائے سزا دینے کے اور کیا کر سکتے ہیں۔مگر اس سے پہلے فسادات میں وہ یہ جواب نہیں دے سکتے تھے۔اور نہیں دیتے تھے۔کیونکہ اس وقت ہم انہیں کہتے تھے کہ باوجود اس کے کہ ملک قانون شکنی کے مخالف ہے۔حکام خود قانون شکنی کر کے فساد پھیلا رہے ہیں۔اور برطانوی حکام تحقیق کرنے پر مجبور ہوتے تھے۔دو سری دقت میرے راستہ میں رہی تھی کہ میں اب صدر نہ تھا۔میں حکام کے کان میں تو بات ڈال سکتا تھا۔مگر میں کوئی سمجھوتہ نہیں کر سکتا تھا۔کیونکہ مجھے اس کا اختیار نہ تھا۔اور اس وجہ سے کسی بات کو میں انتہا تک نہیں پہنچا سکتا تھا۔اس کے سوا کہ نتیجہ میرے اختیار میں نہ تھا۔میں نے پورے طور پر کوشش کی۔اور اس میں کمی نہیں کی۔ہاں اپنی کوشش کو شائع بھی نہیں کیا۔کیونکہ ڈر تھا کہ اس وقت کے حالات کے ماتحت خود آپ کے لیڈر ہی حکومت کو تاریں دینے لگ جاتے کہ مجھے کشمیر کے متعلق کچھ کہنے کا حق نہیں اور فائدہ کی جگہ نقصان ہی ہوتا۔میں یہ بھی یقین دلا دینا چاہتا ہوں کہ میں نے کشمیر ایسوسی ایشن کو صاف کہ دیا ہے کہ جو عہدہ دار بھی منتخب ہوں۔میں اپنی پوری طاقت ان کی امداد کے لئے انشاء اللہ خرچ کروں گا۔اور تبدیل شدہ حالات میں جو کچھ ہو سکتا ہے۔اس سے مجھے دریغ نہ ہو گا۔اس کے بعد میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ایک کامیابی کے سرے پر پہنچے ہوئے کام میں روک پیدا ہو گئی ہے۔مجھے اس سے بحث نہیں کہ اس میں کس کا قصور تھا۔بہر حال موجودہ خرابی کو ہم نے دور کرتا ہے۔اور اس کے لئے مندرجہ ذیل مشورہ ان لوگوں کو جو مجھ پر اعتبار رکھتے۔اور میری امداد کی ضرورت سمجھتے ہیں دیتا ہوں۔کسی قسم کی قانون شکنی نہ کی جائے۔بلکہ قانون کا پورا احترام کیا جائے۔میں اس وقت اس اصل کی اخلاقی خوبیاں نہیں بیان کرنا چاہتا۔صرف یہ کہتا ہوں کہ کم سے کم فائدہ اس کا یہ ہو گا۔کہ قانون شکنی کا الزام لگا کر حکام کو ظلم کرنے کا موقعہ نہ ملے گا۔اور آپ لوگ اس عرصہ میں منتظم ہو سکیں گے۔آپ کو یاد رکھنا چاہئے کہ ہر جنگ سے پہلے تنظیم ضروری ہے۔مگر ابھی تو آپ لوگوں نے تنظیم کا کام ختم کیا شروع بھی نہیں کیا۔پھر کتنا ظلم ہو گا۔اگر آپ لوگ قومی طاقت کو ضائع کرلیں۔آپ کی جائیں اور آپ کے مال قومی امانت ہیں۔اس امانت کو بے موقعہ خرچ کرنا +1