تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 607
تاریخ احمدیت جلد ۵ 595 تحریک آزادی کشمیر ا د ر جماعت احمدیه بسم الله الرحمن الرحيم نحمده ونصلى على رسوله الكريم جس مسلم کو یہ مضمون پہنچے وہ دوسرے مسلمان بھائیوں کو بھی ضرور پہنچا دے۔حقیقت حال اعوذ بالله من الشيطن الرجيم بسم الله الرحمن الرحیم نحمده ونصلى على رسوله الكريم خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ حو الناصر میں نے ایک عرصہ سے اہل جموں و کشمیر کے نام اپنے خطوط کا سلسلہ بند کیا ہوا تھا اور یہ اس وجہ سے نہ تھا کہ مجھے اہل کشمیر سے ہمدردی نہ رہی تھی بلکہ اس کی وجوہ اور تھیں اور میرا ان وجوہ کی بناء پر خیال تھا کہ میری طرف سے سلسلہ خطوط کا جاری رہنا لیڈران کشمیر کے لئے مشکلات پیدا کرے گا۔پس خود اہل کشمیر کے فائدہ کے لئے میں خاموش رہا۔۔۔اس کے بعد میں دوستوں کو بتانا چاہتا ہوں کہ میں صدارت سے علیحدہ ہو کر امداد سے غافل نہیں رہا اور میں سمجھتا ہوں کہ اگر میں پس پردہ کوشش نہ کرتا رہتا۔تو یقیناً موجودہ حالت سے بھی بد تر حالت ہوتی۔لیکن حالات کی نزاکت کو دیکھ کر میں نے اس امداد کا اظہار نہیں کیا۔کیونکہ اس میں نقصان کا خطرہ تھا۔سب سے اول میں نے یہ کام کیا کہ مولوی عبدالرحیم صاحب درد جن کے نام اور کام سے کشمیر کا ہر عاقل بالغ واقف ہے انہیں انگلستان ہدایت بھیجوائی کہ وہ انگلستان میں لوگوں کو کشمیر کے حالات سے واقف کریں تا اس سے لوگوں کو دلچسپی پیدا ہو۔چنانچہ انہوں نے دو کام اس بارہ میں کئے۔(1) مختلف ذمہ دار لوگوں سے اور پریس سے مل کر کشمیر کے متعلق ہمدردی پیدا کرنے کی کوشش کی۔چنانچہ کئی اخبارات میں ہمدردانہ مضامین نکلے۔جن میں سب سے زیادہ قابل ذکر ڈیلی ٹیلی گراف کا وہ مضمون ہے جس میں اس نے لکھا ہے کہ پہلے یہ بتایا جاتا تھا کہ کشمیر کے فسادات افسروں کی نالائقی کے سبب سے ہیں۔لیکن اب تو انگریز افسر چلے گئے ہیں پھر بھی فساد ہو رہا ہے۔معلوم ہوا کہ کوئی گہرا نقص ہے جس کے لئے اب ہمیں ایک اور کمیشن بٹھانا چاہئے۔اور ان نقصوں کو دور کرنا چاہئے۔اس پر درد