تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 606
تاریخ احمدیت جلده 594 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمد یہ اجازت کے انجمن نہیں بن سکتی۔انجمنوں کی ممانعت کا کوئی قانون دنیا کی کوئی حکومت نہیں بنا سکتی۔آخر ہندو انجمنیں بنا رہے ہیں آپ کی انجمن خفیہ نہ ہوگی نہ باغیانہ پھر حکومت اس بارہ میں کس طرح دخل دے گی۔میں امید کرتا ہوں کہ نوجوان فورا اس طرف قدم اٹھا ئیں گے۔اور اس ضرورت کو پورا کریں گے۔ورنہ سخت نقصان کا خطرہ ہے اور بعد میں پچھتائے کچھ نہ ہو گا۔ایک ضروری امر جس کی طرف میں توجہ دلانا چاہتا ہوں یہ ہے کہ جب تک خود اہل کشمیر اپنے آپ کو منتظم نہ کریں گے کچھ کام نہیں ہو گا۔باہر کے لوگ کبھی کسی نظام کو سنبھال نہیں سکتے۔پس ضرورت ہے ایسے دانیٹروں کی جو اپنی خدمات کو قومی کاموں کے لئے وقف کرنے کے لئے تیار ہوں۔ایسے لوگ اگر ایک ایک دو دو درجن بھی ہر شہر اور قصبہ میں مل جائیں تو ہندو ایجی ٹیشن کو بے اثر بنایا جا سکتا ہے۔مجھے بعض لوگوں نے لکھا ہے کہ حکومت مسٹر عبد اللہ کی قید کو لمبا کرنے کی فکر میں ہے۔اس میں کیا شک ہے کہ ہندو اس بارہ میں پورا زور لگا ئیں گے۔لیکن میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ جہاں بعض حلقوں میں یہ خیال زیر غور ہے وہاں بعض حلقوں میں سیاسی قیدی چھوڑ کر اچھی فضا پیدا کرنے کا خیال بھی پیدا ہو رہا ہے۔اور کیا تعجب ہے کہ دوسری تحریک پہلی پر غالب آجائے۔پس ہمارا فرض یہی ہے کہ ہم ہوشیاری سے سب حالات کو دیکھیں۔اور جس رنگ میں ہمارا فائدہ نظر آتا ہو اس کے مطابق کام اور میں ہمارا فائدہ نظر آتا اس کریں۔بعض لوگوں کو وزارت کے متعلق بھی شکایات ہیں۔میں اس کے متعلق بھی آپ لوگوں کو یقین دلاتا ہوں کہ اس کی اصلاح کے متعلق بھی ہم کوشش کر رہے ہیں اور میں آپ لوگوں کو یقین دلاتا ہوں کہ جب تک ایک کام کرنے والی وزارت مقرر نہ ہوگی۔ہم انشاء اللہ صبر نہیں کریں گے۔اور ایسے آثار ہیں کہ میں سمجھتا ہوں کہ انشاء اللہ اس امر میں ہمیں کامیابی ہوگی۔میں نے گزشتہ خط میں لکھا تھا کہ میں کشمیر آنے کا ارادہ رکھتا ہوں۔بعض دوستوں کو اس سے غلط فہمی ہوئی ہے میں قریب زمانہ میں وہاں آنے کا ارادہ نہیں رکھتا بلکہ میرا ارادہ یہی ہے کہ جب اللہ تعالٰی ہمارے قیدی بھائیوں کو آزاد کرے تو آئندہ تنظیم کے پروگرام پر مشورہ کرنے کے لئے وہاں آؤں۔ما کہ جو فوائد گزشتہ سیاسی جنگ میں ہم نے حاصل کئے ہیں۔ان سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھایا جاسکے۔اللہ تعالیٰ آپ لوگوں کے ساتھ ہو۔والسلام - خاکسار مرزا محمود أحمد صدر آل انڈیا کشمیر کمیٹی ۲۷/۵/۳۲