تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 578 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 578

تاریخ احمدیت ، جلد ۵ 566 تحریک آزادی کشمیر ا د ر جماعت احمدیه یہ امر بھی یاد رکھیں کہ کوئی تحریک کامیاب نہیں ہو سکتی۔جب تک کہ پبلک کی ہمدردی اس کے ساتھ نہ ہو اور پبلک اس کی خاطر اپنی جان دینے کو تیار نہ ہو۔عزت کی موت ذلت کی زندگی سے ہزار درجہ اچھی ہوتی ہے پس جہاں میں یہ نصیحت کرتا ہوں کہ اپنے نفسوں پر قابو رکھیں وہاں میں یہ نصیحت بھی کرتا ہوں کہ آپ کو اپنے نفسوں کو ملک اور قوم کے لئے قربانی کی خاطر تیار رکھنا چاہئے۔یہ اور بات ہے کہ آپ اپنے ملک کے فائدہ کے لئے اعتدال کا طریق اختیار کریں اور یہ بات اور ہے کہ آپ اس امر کے لئے تیار ہوں کہ اگر ملک کے لئے جان دینی پڑے گی تو خوشی سے جان دے دیں گے۔یہ دونوں باتیں جدا جدا ہیں اور اپنی اپنی جگہ دونوں حق ہیں پس چونکہ بالکل ممکن ہے کہ ایسا وقت آجائے کہ بغیر اخلاق یا مذہب کو ہاتھ سے دینے کے آپ کو اپنے ملک کے لئے جان دینی پڑے اس لئے اس وقت کے لئے بھی آپ کو تیار رہنا چاہئے۔اور اپنے اندر قربانی کی روح اور بہادری کا احساس پیدا کرنا چاہئے اور پھر یہ بھی ضروری ہے کہ ہر کشمیری کو آپ لوگ اس جنگ کے لئے تیار رکھیں جو اس وقت آزادی کے لئے آپ لوگ کر رہے ہیں قید ہونا صرف مسٹر عبد اللہ کا فرض نہیں۔آپ لوگوں کا بھی فرض ہے۔مسٹر عبد اللہ آسان سے نہیں گرے ان کے بھی ماں باپ بھائی بند ہیں ان کا بھی ایک دل اور ایک جسم ہے جس طرح آپ کے قید ہونے پر آپ کے عزیزوں کو تکلیف پہنچ سکتی ہے اور جس طرح قید ہونے سے خود آپ لوگوں کے دل اور جسم کو بھی تکلیف پہنچتی ہے پس اس پر خوش نہ ہوں کہ آپ کا لیڈر آپ کے لئے قید میں ہے کیونکہ یہ غداری اور بے وفائی کی کمینہ مثال ہو گی۔بلکہ اس امر کے لئے تیار رہیں کہ اگر موقع آئے تو آپ بھی اور آپ کے عزیز بھی بلکہ آپ کی عورتیں بھی قید ہونے کو تیار رہیں گی۔یہ بھی مت خیال کریں کہ جب ہمیں امن کی تعلیم دی جاتی ہے تو ہمیں قید ہونے کا موقع کس طرح مل سکتا ہے کیونکہ مسٹر عبد اللہ کو بھی ریاست نے بلاوجہ اور بلا قصور گرفتار کیا ہے اور اسی دفعہ نہیں پہلے بھی اسی طرح بلا وجہ انہیں قید کرتی رہی ہے۔اسی طرح ہو سکتا ہے کہ آپ کو بھی کسی وقت ریاست بلا وجہ قید کرلے۔پس اپنے نفسوں کو تیار رکھیں۔اور اپنی اولاد کو بھی سمجھاتے رہیں کہ ملک کی خاطر قید ہو نا کوئی بری بات نہیں بلکہ عزت ہے۔میں نے اپنے ایک پہلے خط میں لکھا تھا کہ مسٹر عبد اللہ اور دوسرے لیڈر جب تک آزاد نہ ہوں۔آپ لوگ روزانہ ان کے لئے دعا کرتے رہا کریں۔اور اپنی اولادوں کو بھی اس میں شامل کیا کریں۔میں اس بات کی طرف پھر توجہ دلاتا ہوں کہ آج سے آپ لوگ متواتر رات کو سونے سے پہلے خدا تعالٰی سے اپنے مذہب اور طریقہ کے مطابق مسٹر عبد اللہ کے لئے اور اہل کشمیر کو انسانی حقوق ملنے کے لئے دعا کیا کریں۔نیز میں مساجد کے اماموں سے بھی اپیل کرتا ہوں کہ وہ بھی ہر جمعہ کے دن تمام نمازیوں