تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 579 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 579

تاریخ احمدیت جلد ۵ 567 تحریک آزادی کشمیرا، رجماعت احمدیه سمیت مناسب موقع پر کشمیر کی آزادی اور مسٹر عبد اللہ اور دیگر لیڈران کشمیر کی حفاظت اور رہائی کے لئے دعا کیا کریں اس کا فائدہ ایک تو یہ ہو گا کہ اللہ تعالیٰ کی غیرت جوش میں آکر ان فلموں کا خاتمہ جلد کر دے گی جو اہل کشمیر پر ردار کھے جاتے ہیں۔اور دو سرا فائدہ یہ ہو گا کہ ہر گھر میں اور بچوں تک بھی یہ تحریک پہنچ جائے گی۔یاد رکھیں کہ ریاست یہ قانون تو بنا سکتی ہے کہ گزر گاہوں یا مساجد میں آپ کو اور آپ کے بچوں کو اور آپ کی عورتوں کو کوئی شخص ملک کے صحیح حالات نہ بتائے۔لیکن کوئی ریاست خواہ کس قدر زبردست کیوں نہ ہو اس امر کا انتظام نہیں کر سکتی کہ ہر گھر میں اپنے سپاہی بٹھا دے۔پس اگر قانون نے مجلسوں کا دروازہ آپ کے لئے بند کر دیا ہے۔تو اپنے گھروں میں اپنی عورتوں اور بچوں کو بٹھا کر دعاؤں کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ کی مدد چاہو اور اپنی عورتوں اور اپنے بچوں کی قومی تربیت بھی کرو۔اور بھی کئی باتیں ہیں جو میں کہنی چاہتا ہوں لیکن سردست میں اپنے اس خط کو اس بات پر ختم کرتا ہوں کہ اے اہل کشمیر آپ کو یہ امر ایک منٹ کے لئے بھی نہیں بھلانا چاہئے۔کہ مسٹر عبد اللہ جو آپ سے زیادہ ناز و نعم میں پلے ہوئے ہیں جو ظاہری تعلیم کی آخری ڈگری حاصل کر چکے ہیں اور جو اگر کسی مہذب ملک میں ہوتے اور کسی منصف حکومت سے ان کا واسطہ پڑتا تو کسی نہایت ہی اعلیٰ عہدہ پر ہوتے۔آج قید خانہ کی تاریک کوٹھڑی میں بند ہیں۔کسی اپنے جرم کی وجہ سے نہیں بلکہ صرف اس لئے کہ اے اہل کشمیر آپ لوگ غلامی سے آزاد ہو جائیں۔اور آپ کی اولادیں عزت کی زندگی بسر کریں۔(باقی آئندہ) خاکسار میرزا محمود احمد صدر آل انڈیا کشمیر کمیٹی قادیان ضلع گورداسپور (پنجاب) ۲۷/۱/۳۲ اعوذ بالله من الشيطن الرجيم بسم الله الرحمن الرحیم نحمده ونصلى على رسوله الكريم اہل کشمیر کے دواھم فرض میرا دو سراخط (سلسله دوم) برادران کشمیر! السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ۔میرا پہلا خط آپ کو مل گیا ہے اور گورنر کشمیر نے اسے ضبط شدہ بھی قرار دے دیا ہے یہ ریاست کشمیر کی بد قسمتی ہے کہ اس میں گورنر جیسے