تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 577
تاریخ احمد بہت جلد ۵ 565 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیہ عطا کر رکھی ہے ان کے منشاء کے راستہ میں روک بن گئی اور اہل کشمیر نے صاف کہہ دیا کہ وہ اس سیاسی سوال میں مذہبی تفرقہ پیدا نہیں ہونے دیں گے فالحمد للہ ثم الحمد للہ ان حالات کے بیان کرنے سے میری غرض یہ ہے کہ آپ لوگ پوری طرح ان کوششوں سے آگاہ رہیں جو ریاست آپ کے کام کو نقصان پہنچانے کے لئے کر رہی ہے اور آئندہ بھی کرے گی۔اور اس کے ایجنٹوں کے دھوکہ میں آکر غصہ کی حالت میں کوئی فساد نہ کر بیٹھیں یا فرقہ بندی کے سوال کو سیاسی مسائل میں داخل نہ کرلیں۔اے بھائیو ! اس میں کوئی شک نہیں کہ مسٹر عبد اللہ جیسے لیڈر کے بلاوجہ گرفتار کئے جانے پر جنہوں نے اپنی زندگی اپنے پیارے وطن اور اپنے پیارے وطنی بھائیوں کی خدمت کے لئے وقف کر چھوڑی تھی آپ لوگوں کو جس قدر بھی غصہ ہو کم ہے میں یہ بھی جانتا ہوں کہ آپ لوگوں میں سے اکثر اس جگہ خون بہانے کے لئے تیار ہیں۔جہاں مسٹر عبد اللہ کا پسینہ گرے لیکن آپ لوگوں کو یہ بات نہیں بھلانی چاہئے کہ مسٹر عبد اللہ سے محبت کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ ان کے کام کو جاری رکھا جائے۔پس آپ لوگ ریاست کے اس ظلم کا جواب جو انہوں نے مسٹر عبد اللہ صاحب ، مفتی ضیاء الدین صاحب اور دیگر لیڈران کشمیر کو گر فتار یا جلاوطن کر کے کیا ہے یہ دیں کہ اس تحریک کو کامیاب کرنے کے لئے جو مسٹر عبد اللہ نے شروع کر رکھی تھی پہلے سے بھی زیادہ مستعد ہو جائیں۔نیز جو مطالبات انہوں نے پیش کئے تھے۔ان پر آپ لوگ اڑے رہیں اور جو شخص ان مطالبات کے خلاف کیسے خواہ آپ کا ظاہر میں دوست بن کر یہی کہے کہ ان مطالبات سے زیادہ سخت مطالبات ہونے چاہئیں اس کی بات کو رد کر دیں۔اور صاف کہہ دیں کہ مسٹر عبد اللہ کی پیٹھ پیچھے ہم کسی اور کی بات ماننے کے لئے تیار نہیں ہیں۔مجھے اس نصیحت کی ضرورت اس لئے پیش آئی ہے کہ جیسا کہ میں بتا چکا ہوں خود ریاست کا اس میں فائدہ ہے کہ بعض لوگوں سے زیادہ سخت مطالبات پیش کرائے۔کیونکہ اس سے ایک طرف مسٹر عبد اللہ کی لیڈری میں فرق آتا ہے۔دوسری طرف انگریزوں کو بھڑ کانے کا اسے موقع ملتا ہے۔پس آپ نہ صرف اس خوشامدی سے ہوشیار رہیں۔جو نقصان کا خوف دلا کر آزادی کی تحریک سے آپ لوگوں کو ہٹانا چاہے بلکہ اس دوست نما دشمن سے بھی ہوشیار رہیں جو بظا ہر آپ کی خیر خواہی کا دعوی کر کے اور سبز باغ دکھا کر آپ کو آپ کے حقیقی لیڈر سے پھر انا چاہتا ہے۔مجھے اس بات پر زور دینے کی اس لئے بھی ضرورت پیش آئی ہے کہ بعض لیڈر جو ظاہر میں جوشیلے نظر آتے ہیں مجھے ان کی نسبت یقینی طور پر معلوم ہے۔کہ وہ ریاست سے روپیہ لیتے ہیں اور مسٹر عبد اللہ کا اثر گھٹانے کے لئے ریاست کی طرف سے مقرر ہیں۔