تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 575
تاریخ احمدیت۔جلد ۵ 563 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیہ تھا۔مسٹر گنسی سے ملا۔اور انہیں اس نے کہا کہ مسلمان تم سے تعاون کرنا نہیں چاہتے اور اس طرح انہیں مسلمانوں کے خلاف بھڑکایا۔مگر چونکہ مسلمان تعاون کرنے کے لئے تیار تھے اس کا علاج اس شخص نے یہ کیا کہ مسلمانوں سے کہا کہ مسٹر گلنسی تم سے ملنا نہیں چاہتے ہیں انہیں سمجھا کر منوا دیتا ہوں اور پھر مسٹر گھنسی کو یہ بتا کر میں نے بڑی محنت سے مسلمانوں کو منوایا ہے اپنے جرم پر پردہ ڈالا اور ساتھ ہی مسٹر کلنسی کی طبیعت میں شروع میں ہی مسلمان لیڈروں سے بغض پیدا کر دیا۔چنانچہ مولوی عبد الرحیم صاحب در دایم اے سیکرٹری آل انڈیا کشمیر کمیٹی جو کہ عرصہ سے آپ لوگوں کی خدمت کر رہے ہیں انہیں ایک رات گیارہ بجے بلا کر ریذیڈنٹ صاحب اور مسٹر کلنسی نے صبح کے تین بجے تک جو گفتگو کی۔اس سے صاف ظاہر تھا کہ دونوں صاحبان کے دلوں میں مسلمانوں کے خلاف زہر بھرنے کی پوری کوشش کی گئی تھی۔اسی سلسلہ میں ایک کوشش یہ کی گئی کہ بعض اہالیان کشمیر سے جو در حقیقت ریاست کے بعض حکام سے ساز باز رکھتے ہیں۔اور ان کی خفیہ چٹھیاں معتبر لوگوں نے دیکھی ہیں۔یہ اعلان کروایا کہ وہ لوگ کشمیر کے لئے آزاد اسمبلی چاہتے ہیں۔یہ امر کہ یہ لوگ بعض حکام ریاست کے سکھانے پر ایسا کر رہے تھے اس طرح واضح ہو جاتا ہے کہ یہ لوگ ساتھ کے ساتھ کہے جاتے ہیں کہ وہ مہاراجہ صاحب کے اقتدار کو کوئی نقصان نہیں پہنچانا چاہتے۔حالانکہ آزاد اسمبلی کے معنی ہی یہ ہیں کہ مہاراجہ صاحب کے کل اختیار لے کر اسمبلی کو دے دیئے جائیں۔اور جب سب اختیار مہاراجہ صاحب سے لے لئے جائیں۔تو پھر ان کا اقتدار کہاں باقی رہا۔غرض یہ دونوں باتیں ایسی متضاد اور ایک دوسرے سے مخالف ہیں کہ صاف معلوم ہوتا ہے کہ اسمبلی کا مطالبہ خود حکام ریاست انگریزوں کو یہ بتانے کے لئے کہ اہل کشمیر کے مطالبات خلاف عقل اور باغیانہ ہیں کرواتے تھے۔اصل میں یہ لوگ ریاست کے ایجنٹ تھے۔تب ہی تو یہ کہتے تھے کہ ہم مہاراجہ صاحب کے اقتدار میں کوئی فرق نہیں لانا چاہتے۔دو سرا ثبوت کہ یہ لوگ ریاست کی طرف سے اس کام پر مقرر ہوئے تھے یہ ہے کہ یہ لوگ ریاست کی موٹروں میں ریاست کے خرچ پر سفر کرتے رہے ہیں اور حکام ریاست نے تاریں دے دے کر انہیں بلوایا ہے اور ان کو اپنے کاموں پر بھیجوایا ہے اب کیا کوئی شخص مان سکتا ہے کہ ایک طرف تو یہ لوگ کامل آزادی کا مطالبہ کر رہے تھے۔دوسری طرف ریاست جو مسلمانوں کو سر دست کچھ بھی دینے کو تیار نہیں معلوم ہوتی۔ان لوگوں سے دوستانہ برتاؤ کر رہی تھی اور مسٹر عبد اللہ جیسے آدمی کو جن کے مطالبات نہایت معقول تھے اپنا دشمن قرار دے رہی تھی ریاست کا یہ سلوک صاف ظاہر کرتا ہے کہ یہ لوگ ریاست کے ایجنٹ تھے۔اور مسٹر عبد اللہ رعایا کے حقیقی خیر خواہ تھے۔