تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 574
تاریخ احمدیت جلده 562 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیہ گرفتار کریں لیکن انہیں کوئی موقع نہیں ملتا تھا۔چنانچہ مجھے معتبر ذریعہ سے معلوم ہوا ہے کہ بعض لوگوں نے یہ کوشش کی کہ مسٹر عبد اللہ جس جگہ ہوں وہاں لڑائی کروا دی جائے۔اور پھر مسٹر عبد اللہ کو پکڑوا دیا جائے کہ یہ بھی لڑائی میں شامل تھے۔اسی طرح بعض خبیٹوں نے یہ بھی کوشش کی کہ کسی ہندو فاحشہ عورت کو سکھا کر ان کے گھر پر بھیج دیں اور ان پر جبریہ بد اخلاقی کا الزام لگا کر انہیں گرفتار کروا دیں۔میں یہ نہیں جانتا کہ کسی ذمہ دار ریاستی افسر کا اس میں دخل تھا یا نہیں۔لیکن یہ یقینی امر ہے کہ اس قسم کی کوششیں بعض لوگ کر رہے تھے لیکن چونکہ میں نے ان ارادوں کا ذمہ دار حلقوں میں افشاء کر دیا تھا۔اس لئے وہ لوگ ڈر گئے اور ان ارادوں کے پورا کرنے سے باز رہے۔آخراب مفتی ضیاء الدین صاحب کی جلاوطنی کے موقع پر کہ یہ صاحب بھی ایک اعلیٰ درجہ کے مخلص قومی خادم ہیں ایک لغو بہانہ بنا کر مسٹر عبد اللہ کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔حالانکہ مسٹر عبد اللہ امن کے قیام کے لئے کوشاں تھے نہ کہ فساد پیدا کرنے کے لئے۔عزیز بھائیو! چونکہ انسان حالات سے واقف ہو کر مخالف کے حملوں سے بچ جاتا ہے بلکہ مشہور ہے کہ دشمن کے منصوبوں سے واقف ہونا آدھی فتح ہوتی ہے۔میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ ریاست کے حکام کن چالوں سے آپ کو پھنسانا اور آپ کے حقوق کو تلف کرنا چاہتے ہیں تاکہ آپ لوگ فریب میں نہ آئیں اور اپنے اعلیٰ درجہ کے کام کو کامیابی کے ساتھ فتح کر سکیں۔آپ کو معلوم رہنا چاہئے کہ پچھلے مظالم کے وقت میں اور دوسرے ہمدردان کشمیر اس امر میں کامیاب ہو گئے تھے کہ حکومت ہند کی توجہ کو آپ لوگوں کی ناگفتہ بہ حالت کی طرف پھر ا سکیں۔اور اوپر کے دباؤ کی وجہ سے ریاست مجبور ہو گئی تھی کہ ظلم کا راستہ ترک کر کے انصاف کی طرف مائل ہو لیکن وہ حکام ریاست جن کا ولی منشاء یہ تھا کہ کسی طرح مسلمانوں کو حق نہ ملیں۔انہوں نے یہ کوشش شروع کر دی کہ کسی اہل کشمیر کی طرف سے ایسے مطالبات پیش کرا دیں۔جو بالکل غیر معقول ہوں۔یا ایسے فسادات کروادیں۔جنہیں انگریز ناپسندیدہ سمجھیں وہ اس کا یہ فائدہ سمجھتے تھے۔کہ اس طرح انگریزوں کی ہمدردی مسلمانوں سے ہٹ کر ریاست کے ساتھ ہو جائے گی۔دوسری کو شش انہوں نے یہ کرنی شروع کردی کہ فرقہ وارانہ سوال پیدا کر کے مسلمانوں کی طاقت کو کمزور کر دیں۔پہلے مقصد کو پورا کرنے کے لئے انہوں نے بعض مسلمان ذمہ دار لوگوں کو انگریزوں سے لڑوانے کی کوشش کی۔چنانچہ جب گلنسی کمیشن مقرر ہوا۔تو باوجود اس کے کہ مسٹر عبد اللہ اور ان کے ساتھی اس امر کا فیصلہ کر چکے تھے کہ جب تک کوئی خلاف بات ظاہر نہ ہو۔وہ اس سے تعاون کریں گے اور میں نے بھی انہیں یہی مشورہ دیا تھا۔ریاست کا ایک ایجنٹ جسے اس قسم کے کاموں کے لئے باہر سے بلوایا گیا