تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 576
تاریخ احمدیت۔جلد ۵ 564 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیہ دو سرا کام یعنی مسلمانوں میں تفرقہ ڈلوانے کا کام بھی ریاست نے خود مسلمانوں سے لیا۔اور انہی میں سے بعض لوگوں کو اس کام کے لئے کھڑا کیا کہ فرقہ بندی کا سوال اٹھا ئیں۔حالانکہ فرقہ بندی مذہبی شے ہے اور کشمیر کی آزادی کا سوال مذہبی نہیں بلکہ سیاسی ہے کیا اگر ہندو اٹھ کر آج مسلمانوں کے مطالبات کی تصدیق کرنے لگیں۔اور کہیں کہ ان حقوق کے ملنے سے ہمارا بھی فائدہ ہے تو کیا کوئی مسلمان ہے جو کہے گا کہ ہندوؤں کا ہم سے کیا تعلق؟ بلکہ ہر مسلمان شوق سے ان ہندوؤں کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھائے گا۔اور ہندوؤں کی امداد کو امداد غیبی سمجھے گا۔یا مثلاً مہاراجہ صاحب اختیار دینے کو تیار ہوں تو کیا کوئی کہے گا کہ وہ ہندو ہیں ہم ان سے کچھ نہیں مانگتے یا جب سرینگر کے مظالم کے موقع پر بعض انگریزوں نے بعض مسلمانوں کو مار پیٹنے سے بچانے کے لئے کوشش کی تھی۔تو کیا وہ مسلمان انہیں یہ کہتے تھے کہ ہم عیسائی کافر سے مدد نہیں لیتے ان ڈوگروں کو مارنے دو تم ہمیں نہ بچاؤ غرض یہ ایک بالکل خلاف عقل سوال تھا۔اور اصل بات یہ تھی کہ ریاست کے حکام جانتے تھے کہ کشمیر کی آزادی کے لئے آئینی جدوجہد میں میرا بہت سا دخل ہے اور وہ اسی جدوجہد سے زیادہ خائف تھے۔پس ریاست نے یہ کوشش شروع کی کہ مجھے تنگ کرے اور کشمیر کمیٹی سے استعفاء دینے پر مجبور کر دے۔لیکن وہ یہ نہیں جانتی کہ میں خدا تعالٰی کے فضل سے ان لوگوں میں سے نہیں ہوں۔جو ایک ارادہ کر کے اس سے پیچھے ہٹ جائیں۔مجھے اگر کشمیر کمیٹی سے استعفاء بھی دینا پڑتا۔تو بھی میں اہل کشمیر کی مدد سے دست کش نہ ہو تا اور محض اللہ تعالیٰ کے فضل سے مجھے امید ہے کہ اہل کشمیر کے آزاد ہونے تک مجھے ان کی خدمت کی برابر توفیق ملتی رہے گی۔اے میرے رب تو ایسا ہی کر۔اور مجھے اس مظلوم قوم کی مدد کرنے اور بے غرض اور بے نفس خدمت کرنے کی توفیق عطا فرما۔آمین اللهم آمین۔اس تفرقہ ڈلوانے کے کام پر اس قدر زور دیا گیا کہ ریاست کے بعض حکام نے خود بلوا کر۔۔۔۔صاحب کو لاہور بھجوایا۔جہاں انہوں نے یہ پروپیگنڈا کیا کہ میں صدارت سے مستعفی ہو جاؤں۔لیکن بعض معززین کا بیان ہے کہ جب انہوں نے صاحب سے پوچھا۔کہ اگر موجودہ صد را استعفاء دے دیں تو کیا آپ مسٹر عبد اللہ صاحب سے مل کر کام کرنے لگ جائیں گے۔اور ان کی تائید کرنے لگیں گے۔تو انہوں نے جواب دیا کہ نہیں میں ایسا پھر بھی نہیں کروں گا۔اس پر ان معززین نے کہا کہ اگر صدر آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے استعفاء کی غرض اتحاد پیدا کرتا ہے تو اتحاد تو اس صورت میں بھی نہ ہوا۔پھر ہم خواہ مخواہ کیوں کوشش کریں کہ وہ استعفاء دیں۔غرض یہ کہ ریاست کے بعض حکام نے پورا زور لگایا کہ مذہبی فرقہ بندی کا سوال اٹھا کر مسلمانوں کو نقصان پہنچا ئیں۔لیکن مسٹر عبد اللہ کی دور اندیشی اور اہل کشمیر کی وہ طبعی ذہانت جو انہیں اللہ تعالٰی نے