تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 556 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 556

د جلده ۱۹۳۲ء صفحہ ۶ پر شائع ہو گئی تھی۔544 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیہ جسٹس کشمیر کے نام میموریل جناب شیخ محمد احمد صاحب منظر ایڈوکیٹ کی خدمات جلیلہ کا تذکرہ کرنے کے بعد بالآخر آپ ہی کے قلم سے ایک اہم واقعہ درج کرنا ضروری ہے۔یہ واقعہ شیخ محمد عبد اللہ صاحب شیر کشمیر کے ذریعہ سے چیف جسٹس ہائیکورٹ کشمیر کے نام میموریل بھجوانے کا ہے۔جس کے بعد خدا کے فضل سے مظلومین کشمیر کے مقدمات میں کامیابی کا دروازہ کھل گیا۔آپ کا بیان ہے کہ " چیف جسٹس سرد لال کی طبیعت پر یہ اثر تھا کہ مسلمان اسے نا انصاف حج تصور کرتے ہیں اور اس کے انصاف پر اعتماد نہیں رکھتے۔بعض ایسے واقعات رونما ہو چکے تھے۔جن کی وجہ سے سر دلال کی طبیعت میں تحریک آزادی کے متعلق ایک مکدر اور تنفر پیدا ہو چکا تھا۔خصوصا شیخ محمد عبد اللہ صاحب کو وہ اپنا شدید مخالف تصور کرتے تھے۔اور مقدمات میں شیخ صاحب کا نام آتے ہی چین بجبیں ہو جاتے تھے۔مچلی عدالتوں کو اس تندر کا علم تھا۔اس لئے وہ ایک حد تک بے خوف تھیں۔یہ ایک ایسی صورت حال تھی۔جو مقدمات کی کامیابی میں ایک ناقابل بیان سد راہ تھی۔اللہ تعالی کی شان ہے کہ یہ عقدہ جو بظاہر لا نخل نظر آتا تھا۔اس کے حل کی خود بخود ایک تقریب پیدا ہو گئی۔" خود کنی خود کنانی کار را خود وہی رونق تو این بازار را یہ تقریب اس طرح پیش آئی کہ ایک دن شیخ محمد عبد اللہ صاحب انگریز وزیر اعظم کشمیر مسٹر کالون نامی سے ملاقات کرنے گئے۔اور انہوں نے کشمیریوں پر مظالم اور انکے حقوق کی تلفی کا ذکر کیا۔وزیر اعظم نے کہا کہ بہر حال شورش بند ہونی چاہئے۔اور امن قائم کیا جائے۔خیر اس ملاقات کے بعد شیخ صاحب چنار باغ میں میرے ہاؤس بوٹ پر تشریف لائے۔شیخ صاحب نے مجھ سے ذکر کیا کہ مسٹر کالون کہتے ہیں کہ شورش بند ہونی چاہئے۔اور امن قائم ہو جانا چاہئے۔مجھے اس بات میں ایک بہت ہی بڑا نکتہ نظر آیا اور میں نے شیخ صاحب سے کہا کہ آپ کل تشریف لا ئیں۔میں آپ کی طرف سے ایک میموریل لکھوں گا جو مسٹر کالون کو بھیجا جائے گا۔اور آپ کی قوم کی اس میں بھلائی اور فائدہ ہے کہ وہ میموریل آپ کی طرف سے پیش ہو۔میں نے شیخ صاحب کے اندر ایک بہت بڑی خوبی مشاہدہ کی۔جس بات میں ان کی قوم کا بھلا ہو وہ اپنی رائے کو چھوڑ کر بھی اسے اختیار کر لیتے ہیں۔خواہ بظاہر یہ بات ہو کہ اپنی رائے کو چھوڑنا ایک مشکل امر ہو لیکن شیخ صاحب کا خلوص بے نفسی پر مبنی تھا۔میں نے ایک میموریل انگریزی زبان میں تیار کیا۔جس میں امور ذیل پیش کئے۔آپ فرماتے ہیں کہ شورش بند ہو لیکن آپ کو وجوہات معلوم ہونی چاہئیں۔جن کی وجہ سے