تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 557
تاریخ احمدیت جلد ۵ 545 تحریک آزادی کشمیر ا د ر جماعت احمدیہ شورش جاری ہے اور جب تک ان وجوہات کا ازالہ نہ ہو۔امن قائم نہیں ہو سکتا۔ان وجوہات میں سے چند حسب ذیل ہیں۔(1) تمام لوگوں میں یہ احساس ہے کہ آزادی کا مطالبہ کرنے پر حکومت نے نہتے لوگوں پر گولیاں چلا ئیں بہت سے لوگ جاں بحق ہو گئے بعض زخمی ہوئے کسی کی ٹانگ کاٹنی پڑی کسی کا ہاتھ کاٹنا پڑا کسی کو زخم ہوئے یہ زخمی لوگ مقدمات میں لیے گئے۔اور جب یہ لوگ لاریوں میں سوار ہو کر علاقوں کی طرف روانہ ہوتے ہیں اور لوگ دیکھتے ہیں کہ کسی کا ہاتھ کٹا ہوا ہے اور کسی کی ٹانگ کٹی ہوئی ہے اور کوئی زخمی ہے اور باوجود اس کے عدالت کی طرف لے جایا جا رہا ہے تو لوگوں میں ایک بہیجان پیدا ہوتا ہے۔تو ملزمان کے متعلق زندہ باد کے نعرے لگتے ہیں۔(۲) جب عدالتوں کے اندر مقامات کی پیروی ہوتی ہے۔تو جو لوگ بر سر عدالت ہیں وہ تحریک آزادی کے دشمن ہیں اور اس معاملہ کو اپنا ذاتی معاملہ سمجھتے ہیں۔کسی بے گناہ کو بھی بری کرنا ایک پاپ سمجھتے ہیں۔اسکے نتیجہ میں ہی انتہائی بے اعتمادی عدالتوں اور حکومت کے خلاف پیدا ہوتی ہے۔(۳) مچلی عدالتیں ایسی ہیں کہ ان کا نہ ہو نا ہونے سے بہتر ہے۔(۴) بعض مقدمات میں بعض بڑے بڑے شریف اور معزز لوگ ملوث کئے گئے ہیں۔تاکہ ان کو سزا دے کر عام لوگوں کو عبرت دلائی جاسکے۔کہ وہ تحریک آزادی سے کنارہ کش ہو جائیں۔ورنہ ان کا بھی یہی حشر ہو گا۔مثلاً بارہ مولا کے مقدمہ میں چالیس معزز اور ممتاز شہری لیے گئے ہیں اور مقدمہ چل رہا ہے۔اور خصوصاً تمام علاقے میں ہیجان اور اضطراب کا موجب ہے۔(۵) مچلی عدالتیں طریق انصاف سے بہت حد تک محروم ہیں۔اور شاید ہم ان حالات میں مقدمات کی پیروی سے دستکش ہو جاتے۔لیکن ہمیں اس بات پر اعتماد ہے کہ بالآخر چیف جسٹس کے پاس پہنچ کرد ادری اور انصاف اور قانون کی پناہ حاصل ہو جائے گی۔یہ وہ امور ہیں جن کی طرف وزیر اعظم صاحب کو توجہ کرنی چاہئے اور ظلم اور استبداد کی روک تھام ہونی چاہئے۔اور قانون کے تقاضے مقدمات میں پورے ہونے چاہئیں۔دوسرے دن شیخ صاحب حسب وعدہ تشریف لائے۔میں نے یہ میموریل انہیں سنایا۔اور انہوں نے پسند فرمایا۔چنانچہ یہ میموریل شیخ صاحب نے مسٹر کالون کو بھیج دیا۔بعد اس کے معلوم ہوا کہ وزیر اعظم نے یہ میموریل چیف جسٹس کے پاس روانہ کیا کہ وہ اس بارے میں کیا کہتے ہیں اور ان کے ریمارک ان امور کے متعلق آنے چاہئیں۔