تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 555
تاریخ احمدیت جلد ۵ 543 تحریک آزادی کشمیر او ر جماعت احمد یہ راصل کوئی ہو نہیں سکتا تھا۔دونوں اپیلانٹ اسی وقت بری کر دیئے گئے اور انہوں نے عدالت سے نکلتے ہی آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے صدر کے نام شکریے کا تار دیا"۔شیخ صاحب کو ان دنوں راتوں کو بھی مسلسل کام کرنا پڑتا تھا۔جس کی وجہ سے آپ کی صحت پر سخت ناگوار اثر پڑا۔مگر آپ اپنی کوششوں میں برابر منہمک رہے۔شیر کشمیر شیخ محمد عبد اللہ صاحب پر جناب شیخ صاحب کی جانفشانی، خلوص اور محنت کا اتنا اثر تھا کہ انہوں نے ۱۶ / جولائی ۱۹۳۲ء کو مولانا جلال الدین صاحب شمس اسٹنٹ سیکرٹری کشمیر کمیٹی کو ایک مخط میں لکھا۔"محمد احمد صاحب وکیل کے متعلق ایک بات میں آپ سے عرض کردوں آپ اس پر بھی توجہ کریں اور حضرت صاحب کی توجہ مبذول کریں۔محمد احمد صاحب ایک قابل اور محنتی وکیل ہیں انہوں نے کشمیر کے مقدمات میں بڑی جانفشانی کے ساتھ کام کیا۔مگر انہیں کشمیر کمیٹی کی طرف سے بہت قلیل فنڈ مہیا ہوتے ہیں میں اس کے لئے خاص سفارش ده کرتا ہوں۔کہ آپ اس کے لئے کم از کم اتنی رقم تو بھیج دیں تاکہ وہ یہاں مقروض نہ ہوں"۔۱۳/ ستمبر ۱۹۳۲ء کو پتھر مسجد سری نگر میں زیر صدارت سید حبیب صاحب ایڈیٹر ”سیاست“ ایک عظیم الشان جلسہ منعقد ہوا۔جس میں شیخ محمد احمد صاحب مظہر، شیخ بشیر احمد صاحب ایڈووکیٹ اور چوہدری محمد یوسف خاں صاحب بی۔اے کے کار ہائے نمایاں، بے لوث اور بیش قیمت قربانیوں کے لئے شکریہ ادا کیا گیا۔۱۷/ نومبر ۱۹۳۲ء کو شیر کشمیر شیخ محمد عبد اللہ صاحب نے شیخ محمد احمد صاحب ایڈووکیٹ ، شیخ بشیر احمد صاحب ایڈووکیٹ ، جناب سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب اور بعض دوسرے اصحاب کے اعزاز میں چائے کی دعوت دی چائے نوشی کے بعد یہ سب اصحاب پھر مسجد میں تشریف لے گئے۔جہاں قریباً میں ہزار مسلمان ان کے الوداعی جلسہ میں موجود تھے۔اس جلسہ میں شیخ محمد احمد صاحب اور چوہدری محمد یوسف خان صاحب کی خدمات کو بہت سراہا گیا۔چنانچہ مولوی عبداللہ صاحب وکیل نے شیخ محمد احمد صاحب مظہر کی نسبت چشم دید واقعہ بیان کیا۔شیخ صاحب موصوف نے نہایت ایمانداری سے اپنی جانفشانی کا ثبوت دیا۔حتی کہ ایک دفعہ شیخ صاحب کے فرزند پنجاب میں بیمار ہو گئے اور انہوں نے مقدمات کو چھوڑ کر اپنے عزیز فرزند کی عیادت کے لئے پنجاب جانا مناسب نہ جانا۔اور ذاتی معاملہ پر قومی مفاد کو ترجیح دے دی۔اسی طرح ایک مرتبہ مالی مشکلات اور ضروریات کے لئے مجبور تھے۔اور میں نے کشمیر کمیٹی سے مانگنے کے لئے کہا۔مگر شیخ صاحب نے دلیرانہ جواب دے کر اپنے ایثار کا ثبوت پیش کیا اور فرمایا۔میں کشمیر کمیٹی سے غریبوں اور قوم کا روپیہ لے کر صرف کرنا نہیں چاہتا۔بلکہ میں چاہتا ہوں که سکونتی مکان فروخت کر کے گزارہ کرلوں۔اس جلسہ کی پوری تفصیل اخبار ”سیاست“۳۰/ ستمبر "