تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 553
تاریخ احمدیت۔جلده 541 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیہ (۲) اپنے کام کی رپورٹ ہمیں بھیجتے رہیں۔یہ ہدایت لے کر آپ اور بعد ازاں چوہدری یوسف خان صاحب (پلیڈ ر گورداسپور) بھی سری نگر پہنچ گئے۔سر دلال چیف جسٹس جموں و کشمیر ہائیکورٹ ان دنوں جموں میں تھے۔اس لئے آپ (شیخ محمد احمد صاحب مظهر) نے پیروی مقدمات کے لئے اجازت کی درخواست پہلے ہی بذریعہ ڈاک جموں روانہ کر دی تھی۔مگر سر دلال نے اجازت نہ دی۔شیخ محمد عبد اللہ صاحب اور ان کے رفقاء کار کے مشورہ سے آپ حضور کی خدمت میں حاضر ہوئے حضور نے فرمایا۔آپ سر دلال کی طبیعت کو نہیں جانتے۔جو شخص نرمی سے پیش آئے اس کے ساتھ حسن سلوک کرتے ہیں اور جو شخص سختی سے پیش آئے اس سے نہایت سخت سلوک کرتے ہیں ان کی طبیعت کو مد نظر رکھو خود جاکر ان سے ملو اور پیروی مقدمات کی اجازت نرمی اور انکسار سے طلب کرو چنانچہ شیخ صاحب نے حضور کی اس ہدایت کی پوری پوری تعمیل کی اور سر دلال نے منظوری کا حکم صادر کر دیا۔اور آپ نے بلا روک ٹوک مقدمات کی پیروی شروع کر دی۔اس کے بعد رجسٹرار ہائیکورٹ سے آپ کے ایسے مراسم ہو گئے کہ اس نے آپ سے کہہ دیا کہ جس وکیل کے لئے آپ کو اجازت لیتا ہو مجھے کہہ دیا کیجئے۔چنانچہ رجسٹرار مذکور کی وساطت سے اور وکلاء کے لئے بھی اجازت ملتی چلی گئی۔(اخبار سیاست ۳۰ / ستمبر ۱۹۳۲ء میں مطبوعہ رپورٹ کے مطابق عدالت ابتدائی اور عدالت ہائے اپیل کے لحاظ سے ۲۵ مقدمات قتل، بلوہ ، ڈکیتی وغیرہ میں آپ کو پیروی کرنا پڑی جن میں ۱۸۰ مظلوم اور بے کس مسلمان ماخوذ تھے آپ کی مساعی سے ۱۲۲ صاف بری ہو گئے ۱۵ اپیل میں بری ہوئے اور کم و بیش ۲۸ کی سزائیں کم ہو گئیں۔بارہ مولا کا مقدمہ جس میں چالیس معززین ملوث کئے گئے تھے حکومت نے از خود واپس لے لیا۔یہ آخر جولائی ۱۹۳۲ء کا واقعہ ہے مقدمہ کی واپسی پر جناب قاضی عبد الغنی صاحب ریڈر اور دوسرے اکتیس اصحاب کی طرف سے حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالٰی کو سرینگر سے یہ تار موصول ہوا کہ بارہ مولا کا سب سے اہم مقدمہ حکومت نے واپس لے لیا ہے۔از راہ کرم اپنے وکیل صاحب کی کامیابی اور آل انڈیا کشمیر کمیٹی کی انمول خدمات کا شکریہ اور مبارک باد منظور فرمائیں۔(الفضل ۳۱/ جولائی ۱۹۳۲ء صفحہ ۲ کالم (۳) پرائیوٹ سیکرٹری صاحب حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کی طرف سے ۶/ اگست ۱۹۳۲ء کو یہ خط شیخ محمد احمد صاحب کو ملا کہ حضور نے مقدمہ بارہ مولا میں کامیابی پر مبارکباد دی۔آپ کو جس مقدمہ میں بے نظیر کامیابی ہوئی وہ تحصیل ہندواڑہ کا ایک کیس تھا اس علاقہ میں ایک