تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 552 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 552

تاریخ احمدیت - جلده 540 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیہ بھمبر پہنچ کر ایک عجیب دقت کا سامنا ہوا۔اور وہ یہ کہ ریاستی قانون کے لحاظ سے لازمی تھا کہ بیرون ریاست سے آنے والا وکیل ہر مقدمے کے لئے اجازت حاصل کرے دو روپیہ کے کاغذ پر درخواست دے اور میں روپیہ فیس ادا کرے گویا اگر ایک معمولی سا مقدمہ بھی پیروی طلب ہو تو عدالت ابتدائی عدالت اپیل اول اور ہائیکورٹ تک ایک مقدمہ کی پیروی کے لئے چھیاسٹھ روپے ادا کئے جائیں یہ صورت حال بہت سے اخراجات آل انڈیا کشمیر کمیٹی پر عائد کرنے والی تھی۔صاحب استطاعت مقدمہ والوں نے اس فیس کو ادا کرنا چاہا لیکن غریب لوگ اس کی طاقت نہ رکھتے تھے آپ کو یہ نظر آیا کہ اگر میں باحیثیت لوگوں کی پیروی فیس ادا کر کے شروع کر دوں تو غرباء کو لاز ما شکایت پیدا ہو گی کہ آل انڈیا کشمیر کمیٹی بھی غریبوں کی مدد نہیں کرتی۔اس مشکل کے پیش نظر اس قانون میں ترمیم کرانا ضروری تھا۔اس لئے آپ بھمبر سے قادیان پہنچے اور رپورٹ پہنچادی۔جس پر حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے چوہدری اسد اللہ خاں صاحب بار ایٹ لاء لاہور کو دوبارہ جموں بھیجوایا۔نتیجہ یہ ہوا کہ چیف جسٹس کی سفارش پر اپریل ۱۹۳۲ء میں مہاراجہ نے بیرونی وکلاء پر عائد شدہ پابندیاں دور کر دیں اور فیس کے لئے بھی قانون بنا دیا کہ چیف جسٹس کو اختیار رہے کہ اگر وہ چاہے تو فیس معاف کر سکتا ہے۔اس ترمیم نے مقدمات کی پیروی کا دروازہ کھول دیا۔حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے ایڈووکیٹ کے متعلق مہاراجہ کی ترمیم و اجازت کے معابعد شیخ محمد احمد صاحب مظہر اور چوہدری یوسف خاں صاحب پلیڈ رگورداسپور کو سرینگر روانہ فرمایا اور اپنی دعاؤں سے رخصت کرنے سے قبل اہم ہدایات دیں جو جناب شیخ محمد احمد صاحب مظہر ایڈووکیٹ کی یادداشت کے مطابق حسب ذیل تھیں۔(1) ہم نے ایک مظلوم قوم کی مدد کرنی ہے وکلاء کا قاعدہ ہے کہ وہ موکل کی لمبی بات نہیں سنا کرتے لیکن کشمیری مظلوم ہیں آپ کو تحمل سے ان کی باتیں سنتا ہوں گی۔خواہ آپ ان باتوں کو غیر ضروری ہی سمجھیں۔(۲) کسی شخص سے کوئی تحفہ یا امداد قبول نہ کریں۔بلکہ جو لوگ آپ کے پاس ملاقات کے لئے آئیں ان کی مناسب تواضع پر خود خرچ کریں کسی سے کوئی پیسہ نہ لیں۔(۳) کشمیر میں جو سر کردہ لوگ اس قسم میں حصہ لے رہے ہیں ان کی طبیعتوں کا اندازہ بھی ہوتا چاہئے اور اس کے مطابق ان سے معاملات کرنے چاہئیں۔(۴) ہر شخص رازدار ہونے کی اہلیت نہیں رکھتا اس لئے حزم و احتیاط ضروری ہے۔(۵) سرینگر پہنچتے ہی وہاں کے گورنر سے ملاقات کریں۔کیونکہ وہ مہم آزادی کشمیر کا معاند ہے اور اسے بہت سی غلط فہمیاں ہیں۔