تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 554 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 554

تاریخ احمدیت جلد ۵ 542 تحریک آزادی کشمیر او رجماعت احمدیہ چار اشخاص پر قائم کیا گیا۔الزام یہ تھا کہ فسادات کے ایام میں یہاں ایک حکومت قائم کی گئی۔ان چار اشخاص میں سے ایک حج ہائیکورٹ ، ایک مجسٹریٹ ، ایک تحصیلدار اور ایک جیلر ہوا۔اور ان چاروں نے اپنے اپنے عہدے کے لحاظ سے کام کیا۔ملزموں کو جرمانے کئے یا انہیں قید کیا یا اور کار روائی جو ان کے منصب کے مطابق تھی کی گئی۔" جیلر " اور " تحصیلدار " ہائیکورٹ میں بھی مجرم قرار پائے۔باقی دو ملزم مولوی سیف اللہ شاہ صاحب اور مولوی سلیمان شاہ صاحب جیسے معزز اشخاص کا مقدمہ ابھی ہائیکورٹ میں چل رہا تھا۔یہ دونوں اصحاب شیخ الحدیث جناب مولوی سید انور شاہ صاحب کشمیری پرنسپل مدرسه دارالعلوم دیو بند کے سگے بھائی تھے۔اور اپنے علاقہ میں بڑے با اثر تھے۔اور ان کے ہزاروں مرید بیان ہوتے تھے۔مقدمہ جو اپنی نوعیت میں پہلے ہی نہایت سنگین تھا آخری مرحلہ تک آپہنچا تھا یعنی اپیل نا منظور ہو چکی تھی اور ہائیکورٹ میں اپیل ثانی دائر ہو کر آخری موقعہ تھا اور سب سے بڑی مشکل یہ آپڑی تھی۔کہ اس مقدمہ کی دو شاخیں تحصیلدار اور جیلر ہائیکورٹ تک مجرم قرار پاچکے تھے۔اور استغاثہ کو یہ کہنے کا حق تھا کہ جب وہ دونوں شخص جو ان ملزمان کے حکم سے کارروائی کرتے تھے۔آخری عدالت سے مجرم قرار پا چکے تھے۔تو یہ دونوں لازماً مجرم ہیں یہ بڑا عقدہ لا نخل تھا لیکن خدا تعالی کی شان يفعل الله ما يشاء ہے وہ چاہے تو بگڑی کو بنادے اور یہی ہوا کہ یہ بگڑی اس کے فضل سے بن گئی جناب شیخ محمد احمد صاحب ایڈووکیٹ اس اجمال کی تفصیل پر روشنی ڈالتے ہوئے فرماتے ہیں ”قصہ یہ ہوا کہ مسل کے معائنہ کرنے پر مجھے معلوم ہوا کہ مجسٹریٹ جس نے عدالت ابتدائی میں اس مقدمہ کی سماعت کی اور سزادی قانوناً مجاز نہ تھا۔کہ اس مقدمہ کی سماعت کرتا مسل پر یہ بات موجود تھی کہ مجسٹریٹ مذکور نے بحیثیت اعلیٰ انتظامی افسر اس الزام کی اپنے طور پر تحقیقات کی تھی اور نمبرداروں کو موقوف کر دیا تھا کہ انہوں نے اپنے علاقہ میں ایسی متوازی حکومت کے جاری ہونے کے متعلق سرکار کو اطلاع کیوں نہیں دی؟ نمبرداروں کی اس طرح پر بر طرفی کے بعد یہ مقدمہ سرکار بنام سیف اللہ شاہ و سلیمان شاہ حاکم مذکورہی نے سنا۔ظاہر ہے کہ وہ اس بارہ میں اپنی قطعی رائے قائم کر چکا تھا۔اور اس کے لئے مقدمہ کی سماعت ایک تحصیل حاصل تھی۔دوسری بات یہ ہوئی کہ مقدمہ سر دلال کی پیشی میں آنے کی بجائے دوسرے حج کی پیشی میں لگ گیا۔ہم نے بحث میں یہ عذر اٹھایا کہ سماعت مقدمہ از اول تا آخر غلط ہے۔کیونکہ مجسٹریٹ اس مقدمہ کی سماعت کرنے کا مجاز نہ تھا۔سرکاری وکیل نے جواب دیا کہ بیج اور چیف جسٹس مجرم قرار دے چکا۔ہمارا جواب یہ تھا کہ چیف جسٹس کے سامنے یہ بات نہیں پیش کی گئی کہ مجسٹریٹ نے خلاف قانون سماعت مقدمہ کی۔یہ نقل فیصلہ موجود ہے جس سے ظاہر ہے کہ یہ عذر کسی نے نہیں اٹھایا۔حج نے سرکاری وکیل سے اس بات کا جواب طلب کیا۔جواب تو