تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 551 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 551

539 تحریک آزادی کشمیر ا د ر جماعت احمد به حراست تھے۔ان پر ایسی عمدہ جرح کی کہ مقدمہ کی دھجیاں بکھیر کر رکھ دیں۔سلطانی گواہ پر پورے دودن جرح ہوتی رہی۔جس سے مقدمہ کی قلعی کھل گئی۔باقی ہیں گواہ بھی اسی طرح زمین و آسمان میں گھومتے ہوئے نظر آتے تھے۔کشمیر کمیٹی کے اراکین کا ہم جس قدر شکریہ ادا کریں کم ہے۔خاص کر محترم صدر صاحب کا جو کہ بڑی بزرگ ہستی ہیں۔ان کے حسن اخلاق کی تمام علاقہ میں دھوم ہے مظلوم مسلمان جو کہ وقتا فوقتا ان کی خدمت میں اپنی تکالیف بیان کرنے کے لئے حاضر ہوتے رہے۔آپ کے حسن اخلاق کے بے حد مداح ہیں۔امید ہے کہ آئندہ بھی صدر محترم اور اراکین کشمیر کمیٹی ہم بے کس مسلمانوں کی امداد فرماتے رہیں گے۔اور اس کا اجر مالک حقیقی سے پائیں گے۔ہم مظلوم مسلمانان کو ٹلی مسلمانان ہند سے اپیل کرتے ہیں کہ تمام تفرقات کو بالائے طاق رکھ کر کشمیر کمیٹی کے مشورہ سے ہماری امداد کریں۔ہم وکلاء صاحبان سے بھی اپیل کرتے ہیں کہ آپ اپنی خدمات کشمیر کمیٹی کی معرفت پیش کریں۔تاکہ ہم بے کسوں کو ظلم سے نجات ملے۔(مسلمانان کو ٹلی بذریعہ انجمن اسلامیہ کوٹلی) شیخ محمد احمد صاحب مظہر ایڈووکیٹ جناب شیخ محمد احمد صاحب ۱۹۱۹ء میں بی اے آنر زپاس کر کے انگریزی کا ایم۔اے کرنا چاہتے تھے۔مگر حضور ایدہ اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا کہ جماعت کو آئندہ وکلاء کی بہت ضرورت پیش آئے گی۔اس لئے وکالت کا امتحان پاس کریں۔چنانچہ آپ نے لاء کالج میں داخلہ لیا۔اور ۱۹۲۱ء سے کپور تھلہ میں وکالت کا کام شروع کر دیا۔اسی دوران میں تحریک آزادی کا آغاز ہوا۔اور حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالٰی نے ۱۷/ نومبر ۱۹۳۱ء کو لاہور سے آپ کو تار دیا کہ۔*PROPOSE SENDING YOU KASHMIR, IF CAN'T START IMMIDIATELY KINDLY COME HERE FOR CONSULTATION KHALIFATUL MASSIH"۔یعنی آپ کو کشمیر بھجوانے کی تجویز ہے اگر فورا روانہ ہونا ممکن نہ ہو تو آپ یہاں بغرض مشورہ آجائیے۔(خلیفتہ المسیح) یہ تار ملتے ہی آپ پہلی گاڑی سے لاہور پہنچے۔عند الملاقات حضور نے دریافت فرمایا کہ تمہارے پاس کتنے مقدمات ہیں ؟ آپ کے پاس اس وقت ڈیڑھ سو کے قریب مقدمات تھے جن کی فہرست آپ نے حضور کے سامنے رکھ دی۔حضور نے فرمایا کہ ان مقدمات کو دو سروں کے سپرد کرنے کا انتظام کرد اور ہمیں تار دو۔چنانچہ آپ واپس کپور تھلہ آگئے۔اور چند دنوں میں یہ مقدمات اپنے دوست وکلاء کے سپرد کر کے حضور کی خدمت میں تار دیا کہ میں حاضر ہوں حضور نے جوابی تار دیا کہ بھمبر روانہ ہو جائیں وہاں کثیر مقدمات پیروی طلب ہیں چنانچہ آپ براستہ گجرات بھمبر پہنچ گئے۔