تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 550
تاریخ احمد بیت - جلد ۵ -۲ " 538 تحریک آزادی کشمیر ا د ر جماعت احمدیہ میں مندرجہ ذیل تار موصول ہوا ہے۔کہ ہم "ممنون ہیں کہ چوہدری یوسف خان پلیڈر کی محنت اور کوشش سے مقدمہ سرکار بنام شہاب الدین وغیرہ جس میں ۴۷ ملزم ڈاکہ کے الزام میں ماخوذ تھے اور اسی طرح مقدمہ سر کا ربنام فقیر محمد وغیرہ جس میں 9 ملزم ماخوذ تھے خارج کر دیئے گئے ہیں۔مہربانی فرما کر ہماری طرف سے دلی شکریہ قبول فرما ئیں"۔لزمان " علی بیگ" (میرپور) کی طرف سے اخبار "انقلاب" (لاہور) ۱۱/ اکتوبر ۱۹۳۳ء میں مندرجہ ذیل الفاظ میں چوہدری محمد یوسف خان صاحب کی مساعی جمیلہ کا شکریہ ادا کیا گیا۔چوہدری یوسف خان صاحب وکیل گورداسپور آل انڈیا کشمیر کمیٹی کی طرف سے نہایت قابلیت کے ساتھ مقدمہ کی پیروی کرتے رہے ہیں۔اور صرف چار ماہ سے جدید کشمیر کمیٹی کی طرف سے ایک وکیل صاحب بھیجے گئے جو چوہدری صاحب موصوف کی امداد کرتے رہے۔اور اصل امداد چوہدری صاحب موصوف کی طرف سے ہمیں ملی۔چوہدری عصمت اللہ صاحب وکیل چوہدری عصمت اللہ صاحب ایڈور کیٹ لائلپور کو یہ خصوصیت حاصل ہے کہ آپ جولائی ۱۹۳۱ء کے آغاز میں جبکہ آل انڈیا کشمیر کمیٹی کا بھی قیام نہ ہوا تھا۔حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد پر سرینگر تشریف لے گئے۔جہاں سے اکتوبر ۱۹۳۱ء میں واپس آکر دوبارہ نومبر ۱۹۳۱ء میں وارد کشمیر ہوئے اور تین ماہ تک قانونی امداد کا فریضہ ادا کیا۔اور فروری ۱۹۳۲ء میں واپس لائلپور آگئے۔لیکن پھر جلد ہی واپس ریاست کشمیر تشریف لے گئے۔جہاں آپ دسمبر ۱۹۳۲ء تک بھمبر، نوشہرہ اور کوٹلی میں مظلومین کے کشمیر کے مقدمات میں قانونی امداد فرماتے رہے۔آپ کی کوشش سے سمو وال مقدمہ قتل کے تمام ملزم بری ہو گئے۔اس کے علاوہ مسلمانان کو ٹلی کے مقدمات کی پیروی میں آپ نے اور میر محمد بخش صاحب نے نہایت شاندار خدمات سرانجام دیں۔جن کا اقرار انجمن اسلامیہ کوٹلی نے مندرجہ ذیل الفاظ میں کیا۔or بار ہا انجمن ہائے پنجاب اور ہندوستان کے مختلف اراکین کو امداد کے لئے پکارا گیا اور کہا گیا کہ خدا کے لئے ہماری امداد کریں۔مگر افسوس کہ سوائے خاموشی کے کسی نے کوئی جواب نہ دیا آخر کشمیر کمیٹی سے درخواست کی گئی جس کے جواب میں دو وکیل صاحبان دھوپ میں جلتے ہوئے یہاں آپہنچے۔اور سسکتے ہوئے بے کس مسلمانوں کی امداد شروع کر دی۔مقدمات جو کہ اس جگہ کے مسلمانوں پر بنائے گئے ہیں تمام قتل کے ہیں۔چوہدری عصمت اللہ صاحب وکیل بی اے۔ایل ایل بی اور میر محمد بخش صاحب پلیڈر نے نہایت جانفشانی سے مقدمات کی پیروی کی گواہ استغاثہ جو کہ چار ماہ سے پولیس کی زیر