تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 548
تاریخ احمد بیت - جلد ۵ 536 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیہ - شیخ محمد احمد صاحب وکیل جو ریاست کپور تھلہ میں سیشن حج اور ایڈووکیٹ جنرل بھی رہے ہیں انہوں نے سات ماہ تک سرینگر میں کام کیا۔چوہدری یوسف خان صاحب نے اڑھائی ماہ سرینگر میں کام کیا۔چوہدری عزیز احمد صاحب باجوہ نے پانچ ماہ تک پونچھ میں کام کیا۔قاضی عبد الحمید صاحب پلیڈ ر نے پونچھ میں چار ماہ تک کام کیا۔۷ میر محمد بخش صاحب پلیڈر نے جو گو جرانوالہ میں کامیاب ترین وکلاء میں سے ہیں۔جموں میں چھ -9 ماہ تک کام کیا۔چوہدری اسد اللہ خان صاحب بار ایٹ لاء (برادر چوہدری ظفر اللہ خان صاحب) نے بعض اپیلوں میں کام کیا۔قاضی عبد الحمید صاحب پلیڈرنے راجوری میں تین ماہ تک کام کیا۔- میر محمد بخش صاحب نے نوشہرہ میں تین ماہ کام کیا۔جو مقدمات ہوئے ان میں ۱۲۱۰- آدمیوں پر مقدمات چلائے گئے اور انداز ا ایک سو مقدمات تھے۔ان وکلاء کی کوشش سے ان میں ۱۰۷۰ کے قریب بری ہو گئے اور ۱۴۰ کو بہت ہی معمولی سزائیں ہو ئیں۔حالانکہ مقدمات اکثر قتل اور ڈکیتی وغیرہ تھے۔ہمارے احمدی وکیل ڈیڑھ درجن کے قریب تھے جن میں سے نصف نے اپنے آپ کو پیش کیا اور بعض ایسے ہیں جو آج تک دوبارہ اپنی پریکٹس نہیں کر سکے"۔حضور ایدہ اللہ تعالٰی نے مندرجہ بالا الفاظ میں وکلاء کی جن بے لوث قربانیوں کا مختصر تذکرہ فرمایا ہے اب ناموں کی اسی ترتیب سے ان پر ذرا تفصیل روشنی ڈالی جاتی ہے۔شیخ بشیر احمد صاحب بی اے۔ایل ایل بی۔ایڈووکیٹ جناب شیخ بشیر احمد صاحب ایڈووکیٹ پہلے قانون دان ہیں جو آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے قیام کے بعد خلیفہ المسیح الثانی کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے کشمیر میں تشریف لے گئے اور سرینگر جموں اور میرپور میں نہایت سنگین مقدمات کی نہایت کامیاب پیروی کر کے مظلومین کشمیر کی قابل قدر امداد کی۔اس دوران میں آپ کو دوبار حدود ریاست سے بھی نکال دیا گیا۔مگر جلد ہی حکومت کشمیر کو اپنا نوٹس واپس لینا پڑا۔اور آپ پھر قانونی خدمات بجالانے کے لئے تشریف لے گئے۔آپ نے جن ملزمین کو رہا کرایا ان میں شوپیاں کیس بڑی اہمیت کا حامل ہے۔بات یہ ہوئی کہ