تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 547 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 547

تاریخ احمدیت جلاده 535 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیہ (فصل چهارم) مظلومین کشمیر کے مقدمات کی شاندار وکالت اور بے نظیر کامیابی جماعت احمدیہ کے وہ وکلاء جو "ڈلٹن کمیشن " اور "گلانسی کمیشن کے لئے قانونی محاذ پر نبرد آزما تھے خدا کے فضل و کرم سے شاندار طور پر کامیاب و کامران ہوئے مگران کے سامنے آئینی جنگ کے اس محاذ کے علاوہ مظلومین کشمیر کے مقدمات کی پیروی کا ایک ایسا زبر دست معرکہ بھی درپیش تھا۔جس کے ایک ایک مورچہ پر ان کو عدالتوں کے ساتھ دستوری جنگ کرنا پڑی۔قبل اس کے کہ تحریک آزادی کے اس نہایت اہم حصہ پر ذرا تفصیلی روشنی ڈالی جائے ضروری معلوم ہوتا ہے کہ ابتداء میں اس کا ایک جمالی خاکہ حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے الفاظ میں درج کر دیں حضور ۱۹۵۱ء کے ایک غیر مطبوعہ مضمون میں تحریر فرماتے ہیں۔۱۹۳۱ء اور ۱۹۳۲ء میں متواتر حکومت کشمیر نے مسلمانوں کو مختلف بہانوں سے گرفتار کر لیا ان گرفتاریوں کے نتیجہ میں بہت سے مقدمات دائر ہوئے جن میں بعض قتل کے تھے بعض ڈکیتی ، بعض بغاوت ، بعض بلوے کے تھے۔یہ بیسیوں تھے اور سینکڑوں ملزم اس میں پیش ہوئے۔ان لوگوں کے دفاع کے لئے آل انڈیا کشمیر کمیٹی نے عموماً اور احمدیہ جماعت نے خصوصاً اپنے وکلاء کی خدمات پیش کیں۔عملا احمد یہ جماعت سے باہر صرف ایک صاحب یعنی غلام مصطفیٰ صاحب نا تک بیرسٹر گوجر انوالہ نے اپنے آپ کو پیش کیا۔جنہوں نے ایک مہینے کے قریب کام کیا۔باقی تمام کے تمام وکلاء جو سب نوجوان احمدی تھے۔اور اپنی عمر کے اس دور میں سے گزر رہے تھے کہ اگر ایک ماہ بھی اس کام میں حرج ہو جائے تو ساری عمر کی پریکٹس ضائع ہو جاتی ہے۔ان کے نام اور کام کی تفصیل یہ ہے۔شیخ بشیر احمد صاحب وکیل جو اس وقت لاہور کے چوٹی کے سول سائڈ کے وکیل ہیں انہوں نے چار ماہ تک سرینگر میں کام کیا۔اس کے علاوہ کچھ عرصہ انہوں نے میرپور میں بھی کام کیا۔چوہدری یوسف خاں اور چوہدری عصمت اللہ صاحب وکلاء نے میرپور میں کئی ماہ تک کام کیا۔