تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 549 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 549

تاریخ احمدیت۔جلده 537 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیہ ۱۹۳۰ء کے فسادات میں ایک سرکاری ملازم پنڈت ( مادھو کول) موضع شوپیاں میں مارا گیا۔جس پر شوپیاں کے بعض مسلمان الزام قتل میں پکڑے گئے اور ان کا مقدمہ قریباً چھ ماہ تک سشن جج صاحبان کے پیش بینچ میں چلتا رہا تھا۔جس کے فیصلہ کے خلاف ہائیکورٹ میں اپیل دائر تھی۔اس مقدمہ کی کامیاب پیروی شیخ بشیر احمد صاحب ایڈووکیٹ نے کی۔چنانچہ اخبار " انقلاب (۱۵/ اگست ۱۹۳۱ء) نے لکھا۔ملزمین کی طرف سے کشمیر کمیٹی کے قابل اور لائق وکیل شیخ بشیر احمد صاحب ایڈووکیٹ ہائیکورٹ لاہور پیش ہوئے۔جنہوں نے نہایت قابلیت سے مقدمہ کی پیروی کی ٹریبونل نے واقعہ شوپیاں کو محض بلوہ قرار دیا تھا اور ملزمین کو سزائے قید دی گئی۔ملزمین نے ہائیکورٹ کشمیر میں اپیل دائر کر رکھی تھی جس کی پیروی کے لئے جناب شیخ صاحب موصوف سرینگر تشریف لے آئے ہیں ہم جناب صدر محترم کشمیر کمیٹی کا اہالیان کشمیر کی طرف سے اس محنت و مشقت کے لئے شکریہ ادا کرتے ہیں"۔محترم شیخ صاحب نے ہائیکورٹ کے سامنے اس غیر معمولی لیاقت و قابلیت سے وکالت کی کہ چند دن کے اندر کیس کے ایک ملزم کو رہا کر دیا گیا۔جس پر شیخ محمد عبد اللہ صاحب ۲۴/ و سمبر ۱۹۳۱ء کو الفضل کے نام شکریہ کا تار دینے کے بعد دسمبر ۱۹۳۱ء کے آخر میں بنفس نفیس حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کی خدمت میں حاضر ہوئے تا اسلامیان کشمیر کی طرف سے شیخ بشیر احمد صاحب اور کشمیر کمیٹی کے دوسرے مخلص کارکنوں کے کار ہائے نمایاں کا شکریہ ادا کریں۔اس سفر میں آپ کے ہمراہ شیخ بشیر احمد صاحب مولانا عبد الرحیم صاحب درد ایم۔اے اور مولوی محمد اسمعیل صاحب غزنوی بھی تھے۔شوپیاں کے علاوہ آپ نے علی بیگ " ( میرپور) کے مقدمہ کی بھی پیروی کی اور اس مقدمہ کے چوالیس ملزمان نے مندرجہ ذیل الفاظ میں شکریہ ادا کیا۔سب سے بڑھ کر ہم آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے ممنون ہیں جنہوں نے شیخ بشیر احمد صاحب ایڈووکیٹ کو ہمارے مقدمہ کی بحث کے لئے ہماری درخواست کو قبول کرتے ہوئے بھیجا اور مسلسل ایک ہفتہ بحث کر کے انہوں نے ہماری نیابت کا حق ادا کر دیا"۔چوہدری محمد یوسف خان چوہدری محمد یوسف خان صاحب بی اے۔ایل ایل بی صاحب نے سرینگر اور میرپور میں نہایت اخلاص سے قانونی امداد بہم پہنچائی۔آپ کو بھی ایک بار ریاست بدر کر دیا گیا تھا آپ کی خدمات کے تعلق میں دو اقتباسات بطور نمونہ درج ذیل ہیں۔اخبار "سیاست" (2/ ستمبر ۱۹۳۲ء) میں لکھا ہے کہ صدر محترم آل انڈیا کشمیر کمیٹی کی خدمت