تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 510 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 510

1 تاریخ احمدیت۔جلد ۵ 498 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیہ ۲۰ اخبار انقلاب (لاہور) ۲۰/ نومبر ۱۹۳۱ء صفحہ ۳۔۲۱ سالانہ رپورٹ صدرا مجمن احمد یہ ۳۲-۱۹۳۱ء صفحه ۱۰۶ -۲۲ الفضل ۱۴ فروری ۱۹۳۲ء صفحه ۲ کالم - ۲۳ اخبار سیاست ۱۸/ اگست ۱۹۳۱ء صفحہ ۴ سے معلوم ہوتا ہے کہ کشمیر کمیٹی کے ساتھ ایک کشمیر فنڈ کمیٹی بھی قائم کر دی گئی تھی۔جس کے صدر ڈاکٹر سر محمد اقبال صاحب تھے کمیٹی کا حساب مسلم بنک لاہور میں کھول دیا گیا۔روپے کا اخراج ڈاکٹر صاحب بالنقابہ اور غلام رسول صاحب بیرسٹر ایٹ لاء کے دستخطوں سے ہو تا تھا۔-۲۴- آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے اجلاسوں کی تاریخیں۔۲۵/ جولائی ۱۹۳۱ء (شملہ ) ۱۳/ ۱۲ ستمبر ۱۹۳۱ء (سیالکوٹ) ۱۳/ اکتوبر ۱۹۳۱ء (لاہور) ۲۴ اکتوبر ۱۹۳۱ء (لاہور) ۱۰/ نومبر ۱۹۳۱ء (لاہور) ۲۲ / نومبر ۱۹۳۱ء (دہلی) ۱۳۴ / فروری ۱۹۳۲ء (لاہور) ۲۴ / مارچ و ۳/ مارچ ۱۹۳۲ء (دیلی) ۹ / مئی ۱۹۳۲ء (لاہور ۵ / جولائی ۱۹۳۲ء (لاہور) کیم فروری ۱۹۳۳ء (لاہور) کے امتی ۱۹۳۳ء (لاہور) ۳ور ستمبر ۱۹۳۳ء (لاہور) ۱۷۴/ تمبر ۱۹۳۳ء (شمله) ۲۵/ مارچ ۱۹۳۴ء (لاہور) ۲۸۴/ مارچ ۰۶۱۹۳۴ ۲۵- رسالہ لاہو ر ا ۳ / مئی ۱۹۹۵ء صفحہ ۸ ۲۶ اجلاس منعقدہ ۹ / مئی ۱۹۳۲ء بمقام لاہور کی روئیداد میں حضور کی تقریر درج ہے کہ کمیٹی اس وقت تک ۳۳ ہزار روپیہ خرچ کر چکی ہے۔اور جو ایڈووکیٹ محاذ کشمیر پر کام کر رہے ہیں ان کی قربانیاں اس کے علاوہ ہیں احمدیوں کے سوا دوسرے مسلمانوں کی طرف سے صرف سات ہزار روپیہ وصول ہوا ہے اور آٹھ ہزار کے قریب کمیٹی نے قرض لیا ہے باقی تمام رقم جماعت احمدیہ نے مہیا کی ہے۔ماہوار خرچ ۳-۴ ہزار کے درمیان ہے لیکن احمدیوں کے چندہ کے سوا ما ہوار آید چار سو سے زیادہ نہیں ہرماہ تقریباً بارہ سو قرض لینا پڑتا ہے۔رجسٹر روئیداد کشمیر کمیٹی صفحہ 19) یہ تو بطور مثال لکھا گیا ہے ورنہ کشمیر کمیٹی کی آمد کے حسابات سے جو موجود ہیں اس حقیقت کی پوری تائید ہوتی ہے۔۲۷۔غالبا یہ واقعہ اگست ۱۹۳۲ء کا ہے۔حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اس کی تفصیل پر روشنی ڈالتے ہوئے ۱۹۴۲ء میں فرمایا۔ایک دن سر سکندر حیات خان صاحب نے مجھے کہلا بھیجا کہ اگر کشمیر کمیٹی اور احرار میں کوئی سمجھوتہ ہو جائے تو حکومت کسی نہ کسی رنگ میں فیصلہ کر دے گی۔میں چاہتا ہوں کہ اس بارہ میں دونوں میں تبادلہ خیالات ہو جائے کیا آپ ایسی مجلس میں شریک ہو سکتے ہیں میں نے کہا مجھے شریک ہونے میں کوئی عذر نہیں۔چنانچہ یہ میٹنگ سر سکندر حیات خاں کی کو ٹھی پر لاہور میں ہوئی اور میں بھی اس میں شامل ہوا۔چوہدری افضل حق صاحب بھی وہیں تھے۔باتوں باتوں میں وہ جوش میں آگئے۔اور میرے متعلق کہنے لگے کہ انہوں نے الیکشن میں میری مدد نہیں کی۔اور اب تو ہم نے فیصلہ کر لیا ہے کہ احمد یہ جماعت کو کچل کر رکھ دیں گے۔میں نے مسکراتے ہوئے کہا اگر جماعت احمد یہ کسی انسان کے ہاتھ سے کچلی جاسکتی تو کبھی کی کچلی جاچکی ہوتی۔اور اب بھی اگر کوئی انسان اسے کچل سکتا ہے تو یقینا یہ رہنے کے قابل نہیں ہے۔(الموعود صفحہ ۱۷۳) جناب چوہدری افضل حق صاحب تاریخ احرار صفحہ ۷۵-۷۶ میں یہ واقعہ بیان کرنے کے بعد تحریر فرماتے ہیں۔میں نے کہا مرزا صاحب کوئی الیکشن ایسا نہیں گزرا جس میں مرزائیوں نے میرے خلاف ایڑی چوٹی کا زور نہ لگایا ہو ہمارا بھی خدا کے فضل سے فیصلہ یہ ہے کہ اس جماعت کو مٹاکر چھوڑیں گے"۔۲۸ خود نوشت حالات حضرت سید زین العابدین ولی اللہ صاحب (غیر مطبوعہ ) ۲۹ محترم شیخ مبارک احمد صاحب کے خلاف نوٹس جاری کئے جانے کا حکام کشمیر نے ایک عجیب عذر تراشا شیخ صاحب موصوف قادیان سے محض جماعتی تربیت و اصلاح کے لئے سرینگر بھجوائے گئے تھے۔اب آپ آب و ہوا کی ناموافقت کے باعث جاتے ہیں بیمار ہو گئے قادیان سے آپ کو اپنے والد ماجد حضرت شیخ محمد الدین صاحب کا تار ملا کہ چاول کھالیں اور چائے کا قہوہ استعمال کریں۔(MILK (12) آپ نے جوابی تار دیا کہ میں چاول اور قہوہ استعمال کرنے کے بھی قابل نہیں ہوں - BLE TO EAT RICE AND TAKE TEA WITHOUT MILK UNAHLE، سپر نٹنڈنٹ پولیس نے ان تاروں کو خفیہ اشارات قرار دے کر آپ کو گور ز کشمیر سردار عطر سنگھ کے حکم سے چوبیس گھنٹہ کے اندر اندر سرینگر سے چلے جانے کا حکم دے دیا۔¡EAT RICE AND TAKE TEA WITHOUT