تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 511
تاریخ احمدیت۔جلد ۵ 499 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیہ ۳۰ دسمبر ۱۹۳۱ء کے آخری ہفتہ میں شیر کشمیر پہلی بار قادیان تشریف لائے اس تقریب پر قادیان کے ایک پبلک جلسہ میں انہوں نے کشمیریوں کے حقوق و مطالبات پر تقریر بھی کی تھی۔مشہور احمدی شاعر جناب حسن رہتای صاحب نے اس استقبالیہ تقریب کے لئے شیر آمد کے قافیہ پر لکھی ہوئی ایک فارسی نظم لکھی جو خواجہ عبد الغفار صاحب ڈار نے جو ان دنوں جامعہ احمدیہ میں تعلیم پارہے تھے) پڑھ کر سنائی جناب چوہدری ظہور احمد صاحب کا بیان ہے کہ شیخ محمد عبد اللہ صاحب میری یادداشت کے مطابق دو دفعہ قادیان آئے دونوں دفعہ حضور کے مہمان تھے نواب صاحب کی کوٹھی پر ایک دفعہ حضور بوجہ بیماری مقیم تھے۔اس لئے یہ بھی وہیں رہے ایک سفر میں حضور کے ملکیتی گاؤں راجپورہ بھی گئے۔۳۱ ملک فضل حسین صاحب کی شہادت کے مطابق عبد القدیر خان صاحب بھی رہائی کے بعد قادیان آئے تھے۔۳۲ بحواله الفضل ۱۹/ جون ۱۹۳۲ء صفحہ ۱۳ کالم ۲-۳- ۳۳- الفضل ۱۳/ نومبر ۱۹۲۹ء صفحه ۸- ۳۴ لاہور ۳۱ / مئی ۱۹۶۵ء صفحہ ۹ کالم ۴(مفہوم) ۳۵- الفضل ۲۰/ مارچ ۱۹۳۲ء صفحه ۱- ۳۶۔تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو اخبار اصلاح یکم ستمبر ۱۹۳۹ء تا ۲۲/ ستمبر ۱۹۳۹ء بعنوان کشمیر تحریک کے ایک اسیر زنداں کی داستان زندان ۳۷ اخبار اصلاح سرینگر ۲۰/ جنوری ۱۹۳۷ء صفحہ ۱ کالم ۱-۳- -- قریشی محمد اسد اللہ صاحب فاضل کا شمیری کے ایک غیر مطبوعہ مقالہ سے ماخوذ الفضل ۱۲۴ ستمبر ۱۹۳۱ء صفحہ ۴ کالم۔اس درجہ محتاط رہنے کے باوجود جب بعض حلقوں کی طرف سے احمد بی غیر احمد ی کا سوال اٹھا دیا گیا تو حضور نے کشمیر کمیٹی کے مفاد کی خاطر چودھری ظفر اللہ خان صاحب پیراکبر علی صاحب فیروز پور فضل کریم صاحب ایل ایل بی - چودھری محمد شریف صاحب وکیل منگری، مولانا جلال الدین صاحب شمس اور ڈاکٹر عبد الحق صاحب کو بھی اس کا ممبر بننے کی دعوت دی اور کشمیر کمیٹی کے اجلاس لاہور میں دوسرے ممبروں کو اسکی اطلاع دیتے ہوئے وعدہ فرمایا کہ اگر کمیٹی کو ان میں سے کسی صاحب پر اعتراض ہو تو میں ان سے استعفاء دلوا سکتا ہوں"۔۲۰ جناب قریشی محمد اسد اللہ صاحب فاضل کے ایک غیر مطبوعہ مقالہ سے ماخوذ ۴۱ بیرونی احمدیوں نے جس خلوص و استقلال سے اہل کشمیر کی مالی امداد کی اس کی رپورٹیں ۳۳-۱۹۳۱ء کے) الفضل، فاروق اور مصباح میں شائع شدہ ہیں۔الفضل ۲۷/ ستمبر ۱۹۳۱ء صفحہ ۴ کالم ۱-۲- ۴۳۔اس کابانی اور روح رواں جموں کا ایک تھا لیڈر محمد اسمعیل تھا جو شہید ہو گیا۔(لاہو ر ۲۶ / اپریل ۱۹۶۵ء صفحہ ۱۳ کالم ۲) ۴۴۔یہ مشین سٹیشنری اور مطبوعات وغیرہ بھی کشمیر کمیٹی کی طرف سے خفیہ راستوں سے پہنچائی گئی تھی۔۴۵ بیان جناب اللہ رکھا صاحب ساغر محرره ۲۲/ دسمبر ۱۹۶۳ء ( جناب قریشی محمد اسد اللہ صاحب فاضل کشمیری کے ایک غیر مطبوعہ مقالہ سے ماخوذ) ۴۶- جناب میر عبد العزیز صاحب ایڈیٹر اخبار انصاف راولپنڈی کا بیان ہے کہ چوہدری غلام عباس صاحب نے اپنی کتاب کشمکش کے مسودہ میں ایک عبارت یہ لکھی تھی کہ میں نے مذہب مولانا ابو الکلام آزاد سے سیکھا ہے اور سیاست مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب سے۔اول الذکر سے میرا سیاسی اختلاف ہے اور ثانی الذکر سے مذہبی۔مگر جب کتاب شائع ہوئی تو دوسری سطور کے علاوہ یہ حصہ بھی حذف کر دیا گیا۔(لاہور ۲۸/ جون ۱۹۶۵ء صفحہ ۲ کالم ۱-۲) ۴-۷- بیان پروفیسر جناب محمد اسحق صاحب قریشی (قریشی محمد اسد اللہ صاحب فاضل ایک غیر مطبوعہ مقالہ سے ماخوذ) ۴۸ خواجہ احمد اللہ صاحب جناب خواجہ غلام محی الدین صاحب قرہ کے والد اور غلام محمد صادق کے چچا اور خسر تھے۔۴۹ اہل کشمیر کے دو اہم فرض صفحہ 1 ۵۰ الموعود (لیکچر سید نا حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالٰی ) سالانہ جلسه ۱۹۴۴ء صفحه ۱۵۹-۱۶