تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 507
تاریخ احمدیت۔جلد ۵ 495 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیہ ذرائع پیدا کئے جائیں۔کہ میری رعایا کو ریاست کی حکومت میں دخل حاصل ہو جائے میں چاہتا ہوں کہ ہر قوم کے نمائندوں کو مناسب موقع دیا جائے کہ وہ ریاست کے معاملات کے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کر سکیں اور حکومت کے نظام میں دخل اور امداد بھی دے سکیں۔کشمیر میں گول میز کانفرنس: میرا ارادہ یہ ہے کہ جب متذکرہ بالا کمیشن موجودہ شکایات و تکالیف کی تحقیقات کا کام ختم کر چکے تو میں ایک ایسی کا نفرنس طلب کروں جس کے صدر مسٹر گلانسی ہوں اور جس میں میری رعایا کے تمام فرقوں کے نمائندے شامل ہوں۔تاکہ اس کانفرنس میں دستور اساسی میں اصلاحات کی ترویج کے بہترین و مناسب ترین ذرائع پر تبادلہ خیالات ہو سکے۔اور اس تبادلہ خیالات کے نتائج کے موافق میرے غور اور میرے احکام کے لئے سفارشات مرتب کی جاسکیں۔بعض مناسب احکام کا نفاذ: اس تحریر کے ساتھ میری حکومت کے بعض اعلانات کئے گئے ہیں ان سے معلوم ہو گا کہ امور ذیل کے متعلق احکام نافذ کر دیئے گئے ہیں۔اول - جن افسروں کو گزشتہ فسادات کے سلسلہ میں محکمانہ طور پر سزادی گئی تھی۔ان کو پھر بحال کر دیا گیا ہے۔دوم۔حال ہی میں جن لوگوں کو سیاسی جرائم کی وجہ سے سزا ملی ہے۔ان کے لئے اپیل کی میعاد وسیع کر دی گئی ہے۔سوم - گزشتہ چار ماہ میں جو فسادات ہوئے ہیں ان کی وجہ سے جو فاقہ مست ہو گئے ان کو فی الفور امداد دی جائے۔چہارم - سرینگر میں اول اول جو فسادات ہوئے ہیں ان کی تحقیقات کے لئے جو (دلال) کمیٹی مقرر ہوئی تھی اس کی تحقیقات کے بعد جو فسادات رونما ہوئے ان کی اور ان فسادات کو دبانے کے لئے ریاست نے جو وسائل اختیار کئے ہیں ان کی تحقیقات کے لئے ایک افسر مقرر کیا گیا ہے۔(دستخط) ہری سنگھ مہاراجہ سرینگر مورخه ۱۱/ نومبر ۱۹۳۱ء " - مہاراجہ صاحب نے اس سلسلہ میں سب سے پہلا اور فوری قدم یہ اٹھایا کہ پتھر مسجد جس پر ریاست کا مدت مدید سے قبضہ تھا اور سرکاری گودام کے طور پر استعمال ہوتی تھی بڑی فراخدلی کے ساتھ مسلمانوں کے سپرد کر دی۔اس مسجد کی رسم افتتاح بڑے جوش و خروش کے ساتھ ۲۹ / نومبر ۱۹۳۱ء کو عمل میں آئی یہ دن مسلمانان ریاست کے لئے سچ سچ جشن عید کا دن تھا اس تقریب پر پچاس ہزار مسلمانوں کا ایک عظیم الشان جلسہ منعقد ہوا۔جس میں کشمیری مسلمانوں کے مشہور لیڈروں نے خطاب کیا۔اور اس میں متفقہ طور پر آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے شکریہ کی قرار داد منظور کی۔چوہدری ظہور احمد صاحب جو آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے دوسرے ممتاز نمائندوں کے ساتھ اس تقریب میں خاص طور پر مدعو تھے اور اعزازی مہمانوں کی حیثیت سے سٹیج پر تشریف فرما تھے۔تحریر فرماتے ہیں۔" را قم الحروف اس جلسہ میں شروع سے آخر تک موجود رہا۔تھوڑے تھوڑے وقفہ کے بعد "اللہ اکبر "۔۱۲۰