تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 496
تاریخ احمدیت جلد ۵ et 484 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیہ شکار ہو رہے ہیں ان کی آہیں اور سسکیاں آسمان پر جا پہنچیں اور خدا تعالی نے ظالموں سے ظلم کی آخری اینٹیں پھینکوا ئیں تا اس ملک پر اپنا فضل نازل کرے ہم نے چاہا کہ مہاراجہ اور حکومت کے ادب کو قائم رکھتے ہوئے امن کے ساتھ بغیر اس کے کہ مہاراجہ کی عزت میں فرق آئے نہ صرف مسلمانوں کو بلکہ کشمیر کی تمام رعایا کو اس کے حقوق دلائیں مگر اس کے نادان وزراء نے ایسا نہ چاہا۔ہم نے فیصلہ کیا تھا کہ ہم باہر رہیں گے اور اس کے گھر پر جا کر پتھر نہیں پھینکیں گے مگر ریاست نے ہمارے علاقہ میں ہم پر پتھر پھینکوائے اور ابتدا کی اور یہ مسلمہ ہے کہ البادي اظلم۔۔۔لیکن ہمارا قلب وسیع ہے ہم ان ہاتھوں کو جنہوں نے پتھر پر سائے ان زبانوں کو جنہوں نے اس کے لئے تحریک کی اور اس کنجی کو جو اس کا باعث ہوئی معاف کرتے ہیں کیونکہ جس کام کا ہم نے بیٹر اٹھایا ہے اس کے مقابلہ میں یہ تکلیف جو ہمیں پہنچائی گئی بالکل معمولی ہے۔۔۔۔پس کشمیر کو آزاد کرانے کے لئے اگر ہم نے چند پتھر کھائے تو یہ کیا ہے ہم نے شروع سے کوشش کی ہے کہ امن کے ساتھ کام کریں اور آئندہ بھی یہی کوشش کرتے رہیں گے۔پھر حضور نے ڈوگرہ حکومت کے زہرہ گداز مظالم کے بعض چشم دید واقعات بیان کرنے کے بعد حاضرین جلسہ کو نہایت درد اور سوز سے تحریک آزادی کشمیر کے لئے ایک جھنڈے تلے جمع ہونے کی تلقین کی اور ارشاد فرمایا۔کس قدر افسوس کا مقام ہے کہ کشمیری مسلمانوں پر ایسی ایسی آفتیں اور مصائب نازل ہو رہی ہوں اور یہاں یہ جھگڑے پیدا کئے جائیں۔حالانکہ چاہئے تھا کہ متحدہ کوشش سے ان کی تکلیف کو دور کیا جاتا۔میں احرار کو نصیحت کرتا ہوں کہ اگر ان میں سے کوئی یہاں بیٹھا ہو تو جا کر اپنے دوستوں کو سنادے میں ان پتھروں کی کوئی پروا نہیں کرتا۔اور اس وجہ سے ان پر کوئی غصہ نہیں انہیں چاہتے کہ کشمیر کے مظلوم بھائیوں کی خاطر اب بھی ان باتوں کو چھوڑ دیں۔وہ آئیں میں صدارت چھوڑنے کے لئے تیار ہوں لیکن وہ عہد کریں کہ مسلمانوں کی اکثریت کے فیصلہ کی اتباع کریں گے۔ان کے اخلاق آج ہم نے دیکھ لئے ہیں وہ آئیں ہمارے اخلاق بھی دیکھیں۔میں انہیں یقین دلاتا ہوں کہ صدارت چھوڑ دینے کے بعد بھی میں اور میری جماعت بھی ان کے ساتھیوں سے بھی زیادہ ان کا ہاتھ بٹائیں گے صدارت میرے لئے عزت کی چیز نہیں۔عزت خدمت سے حاصل ہوتی ہے۔سید القوم خادمهم۔اگر کام نہ کیا جائے تو صرف صدر بننے سے کیا عزت ہو سکتی ہے۔وہ تو ایسی ہی بات ہے جیسے کوئی مجنون کے۔میں بادشاہ ہوں۔بغیر خدمت کے اعزاز حاصل نہیں ہو سکتا۔میرے ذمہ تو پہلے ہی بہت کام ہیں اتنی عظیم الشان جماعت کا میں امام ہوں اور اس قدر کام کرنا پڑتا ہے کہ بارہ ایک بجے سے پہلے شاید ہی کبھی سونا نصیب ہو تا ہو۔میں نے تو یہ بوجھ صرف اس لئے اٹھایا ہے کہ کشمیری مسلمانوں کی آئندہ نسلیں دعائیں دیں گی۔اور کہیں گی کہ اللہ تعالٰی ان