تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 495
تاریخ احمدیت۔جلد ۵ 483 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمد یہ فیصلہ نہ کیا گیا تو مفاہمت کالعدم سمجھی جائے گی۔کمیٹی کے سب فیصلوں کی تائید بعد کو آل انڈیا مسلم کشمیری کانفرنس نے اپنے ایک خصوصی اجلاس میں کرتے ہوئے کمیٹی کو اپنی امداد کا پورا یقین دلایا۔44°4A کشمیر کمیٹی کا اجلاس سیالکوٹ بخیر و خوبی ختم ہوا تو سیالکوٹ کشمیر کمیٹی کے ارکان نے حضور سے درخواست کی کہ کل ۱۴ ستمبر ۱۹۳۱ء کو قلعہ کے وسیع میدان پر ایک جلسہ سے خطاب فرما ئیں۔یہ درخواست حضور نے قبول فرمالی مگر دوسرے دن شام کو جب حضور قیام گاہ سے جلسہ گاہ کی طرف تشریف لے جانے لگے تو منتظمین جلسہ نے عرض کیا کہ کشمیر کمیٹی کے مخالفین جلسہ پر سنگباری کر رہے ہیں سخت خطرہ کی حالت ہے اور نقصان کا احتمال ہے اس لئے آپ تشریف نہ لے جائیں۔لیکن حضور نے اس کی ذرہ برابر پروانہ کی۔اور پتھروں کی بارش میں سٹیج پر پہنچ گئے۔خدام نے حضور کے ارد گرد حلقہ بنالیا اور میر عبد السلام صاحب وغیرہ مخلصین نے چھتریاں تان لیں۔مگر اس کے باوجود تین پھر حضور کے ہاتھوں پر آکر لگے۔اور احمدی تو شاید ہی کوئی ایسا ہو جسے چوٹ نہ آئی ہو پچیس تیس کے قریب احمدیوں کو تو شدید زخم آئے۔اور ان کے کپڑے خون آلود ہو گئے حتی کہ چھوٹے چھوٹے بچے بھی سخت زخمی ہوئے۔مگر احمدی استقلال کے ساتھ کوہ وقار اور پیکر عزم و شجاعت بنے ہوئے ہر لحظہ " اللہ اکبر " اور "اسلام زندہ باد" کے نعرے بلند کرتے رہے۔پتھروں کا سارا زور حضور کے اردگرد تھا۔منتظمین جلسہ نے مشورہ دیا کہ یہاں سے بہت جانا چاہئے۔مگر آپ نے تقریر کئے بغیر واپس جانے سے بالکل انکار کر دیا اور آخر مولوی عبدالرحیم صاحب درد (سیکرٹری آل انڈیا کشمیر کمیٹی) حضور کے ارشاد پر ڈپٹی کمشنر کے پاس گئے اور ان کو صورت حال سے باخبر کیا چونکہ زخمی متواتر ان کے پاس سے گزر رہے تھے اور وہ بھی سمجھ چکے تھے کہ اس سے زیادہ احمدیوں کی صبر آزمائی کا امتحان کرنا خطرناک نتائج پیدا کرے گا اس لئے انہوں نے پانچ منٹ کے اندر اندر مجمع کو منتشر ہونے کا حکم دے دیا۔اس حکم کے بعد ابھی تین منٹ بھی نہیں گزرے تھے کہ قلعہ کا میدان صاف ہو گیا۔اس پر حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے موٹر اور پر زور تقریر کی اور نہایت پر شوکت انداز میں فرمایا کہ ”جو لوگ دوسروں کی خاطر پتھر کھاتے ہیں ان پر ضرور پھول برستے ہیں۔جو پتھر آج پھینکے گئے ہیں ان کے کھانے کی ہم میں اہمیت نہیں یہ خدا تعالٰی نے اس لئے پھینکوائے ہیں کہ کل کو پھول بن کر ہمیں لگیں ان سے سمجھ لینا چاہئے کہ کشمیر آزاد ہو گیا۔یہ پتھر بھی جن لوگوں نے مارے ہیں انہوں نے اپنی طرف سے نہیں بلکہ کشمیر کی طرف سے مارے ہیں جس کے معنی یہ ہیں کہ ریاست نے علاقہ پر رعایا کو قبضہ دے دیا۔سو اللہ کے فضل سے ہم امید کرتے ہیں وہ مظلوم جو سینکٹروں سال سے ظلم و ستم کا 10