تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 497
تاریخ احمدیت جلد ۵ 485 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیہ لوگوں کا بھلا کرے جن کی کوشش سے آج ہم آرام کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔ان کے لئے بھی موقع ہے کہ کشمیریوں سے دعائیں لیں ان کی دعا ئیں عرش الہی کو ہلا دیں گی۔وہ کہیں گے الہی ! جن لوگوں نے ہمیں آزاد کرایا ہے تو بھی ان کو آزاد کر دے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آخر میں سب حاضرین سے اور ان سب سے جن تک میرا یہ پیغام پہنچے کہتا ہوں کہ اٹھو! اپنے بھائیوں کی امداد کرو۔اپنے کام بھی کرتے رہو مگر کچھ نہ کچھ یاد ان مظلوموں کی بھی دل میں رکھو جہاں اپنے خانگی معاملات اور ذاتی تکالیف کے لئے ہمارے دلوں میں ٹیسیں اٹھتی ہیں وہاں ایک ٹیس ان مظلوموں کے لئے بھی پیدا کرو۔اور ان آنسوؤں کی جھڑیوں میں سے جو اپنے اور اپنے متعلقین کے لئے برساتے ہو۔اور نہیں تو ایک آنسوان ستم رسیدہ بھائیوں کے لئے بھی ٹپکاؤ مجھے یقین ہے کہ تمہاری آنکھوں سے ٹپکا ہوا ایک ایک آنسو جس کی محرک سچی ہمدردی ہوگی۔ایک ایسا دریا بن جائے گا۔جو ان غریبوں کی تمام مصائب کو خس و خاشاک کی مانند بہا کر لے جائے گا اور اس ملک کو آزاد کر دے گا۔(الفضل ۲۴ ستمبر ۱۹۳۱ء صفحه ۳-۹) ادھر اجلاس سیالکوٹ کے معابعد آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے جلسہ پر سنگباری کی گئی۔ادھر ایک ہفتہ بعد ۲۱/ ستمبر ۱۹۳۱ء کو شیخ محمد عبد اللہ صاحب کو جو اسلامیہ سکول کے لئے چندہ جمع کر رہے تھے گرفتار کر لیا گیا گرفتاری کے خلاف احتجاج کرنے والے نہتے اور بے گناہ مسلمانوں کے ایک پر امن جلوس پر ریاستی پولیس اور فوج نے حملہ کر دیا۔اس حملہ سے متعدد مسلمان شہید اور بیسیوں زخمی ہوئے۔کشمیر کمیٹی کے نمائندہ چوہدری عصمت اللہ خان صاحب بی ایس سی۔ایل ایل بی تھے۔جنہیں شروع سے آخر تک تمام واقعات اپنی آنکھوں سے دیکھنے کا موقع ملا آپ نے قادیان میں نہ صرف اس دردناک حادثہ کے چشم دید حالات بالتفصیل بھیجوا دیئے بلکہ جامع مسجد کا نقشہ بھی بھجوایا جو الفضل ۲۹ ستمبر ۱۹۳۱ء میں شائع کر دیا گیا۔چوہدری صاحب نے مسلح سواروں اور شہداء کے فوٹو ارسال کئے اور ان کے خون سے رنگین کر کے ایک کپڑا بھی جس پر انہیں کے خون سے لکھ کر یہ الفاظ بھی بھیجے کہ " مقتول مسلمانوں کا خون صفحہ کاغذ پر مظلومیت کی آواز بلند کر رہا ہے "۔سرینگر سے بھی زیادہ اسلام آباد میں مسلمانوں کا کشت و خون ہوا۔جہاں ۲۳/ ستمبر ۱۹۳۱ء کو گولی مسلمانان سرینگر و اسلام آباد پر فوج کے مظالم - چلنے سے ۲۵ مسلمانوں نے جام شہادت نوش کیا اور ڈیڑھ سو سے زیادہ کے قریب زخمی ہوئے۔اس کے علاوہ شوپیاں اور اس کے مضافات میں بعض مسلمانوں کو ان کے مکانوں میں نہایت بے دردی اور بے رحمی سے جلا دیا گیا۔جب اہل کشمیر نے اس ظلم و ستم کو دیکھا تو انہوں نے ۲۴/ ستمبر ۱۹۳۱ء کو