تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 494
تاریخ احمدیت۔جلد ۵ 482 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیہ ہے خطرہ کی کوئی بات نہیں اس شرارت کا منبع اس قدر ریاست کے اندر نہیں جتنا کہ برٹش پنجاب میں ہے یہاں کے قادیانی ہندو دھرم قوم پرستی ، کانگریس یا گاندھی کے سخت دشمن ہیں۔احرار کی سرگرمیوں کا کوئی نوٹس نہیں لینا چاہئے ان کی ایجی ٹیشن خالی خولی ہے"۔(ملاپ ۳۱ / اکتو بر ۱۹۳۱ء صفحه (۱۷) ان حالات میں ہندو قوم کی طرف سے آل انڈیا کشمیر کمیٹی ، اس کے صدر محترم امام جماعت احمدیہ اور جماعت احمدیہ کے خلاف منصوبہ بندی خلاف توقع نہیں تھی۔چنانچہ اس ضمن میں کشمیر حکومت کے در پردہ عزائم کا پہلی بار انکشاف اس وقت ہوا جبکہ ۸/ ستمبر ۱۹۳۱ء کو شیر کشمیر شیخ محمد عبد اللہ صاحب کا مندرجہ ذیل تار سیکرٹری آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے نام پہنچا۔it SECRETARY KASHMIR COMMITTEE QADIYAN 8 SEP 1931 AHRAR DEPUTATION ARRIVED HERE STAYING AS STATE GUESTS SHOULD WE CO۔OPERATE YOUR DEPUTATION BADLY NEEDED۔ABDULLAH ✅ یعنی احرار کا وفد یہاں پہنچ گیا ہے۔اور سرکاری مہمان کی حیثیت سے ٹھرا ہوا ہے۔کیا ہم اس سے تعاون کریں آپ کے وفد کی اشد ضرورت ہے۔احراری وفد کے ممتاز رکن مفکر احرار جناب چوہدری افضل حق صاحب یہ بتاتے ہوئے کہ جموں کے گورنر نے وزیر اعظم (ہری کشن کول) کو تار دے کر اس وفد کے داخلہ کی اجازت حاصل کرلی تھی داخلہ کشمیر پر روشنی ڈالتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں۔ہم سرینگر پہنچے تو فضا قدرے مکدر تھی۔لوگ غریب جماعت کے غریب افراد کو شک وشبہ کی نظر سے دیکھتے تھے۔تنگ حال لوگ دوسروں کی تنگ حالی میں کیا مدد کریں گے بس آئے ہیں ریاستی خزانے سے جیبیں بھر کے لوٹ جائیں گے ہمارے ریاست میں آنے کا مقصد ہمارے بعض کا نگری احباب نے لوگوں کو یہی سمجھایا اور لوگوں نے یونہی سمجھا۔۔۔۔غرض ایسے ماحول میں ہم سرینگر پہنچے حکومت کو ابتداء سے اصرار تھا کہ ہم ریاستی مہمان بنیں۔۔۔۔ہمارے آرام کا ہماری ضرورت سے زیادہ خیال رکھا۔خورد و نوش کا سامان ریاست کی شان کے مطابق کیا"۔ان ” شاہی مہمانوں" سے حکام کشمیر کی کیا گفتگو ہوئی یہ تو معلوم نہیں البتہ اس کے بعد عملاً ہوا یہ کہ چند روز بعد ۱۲- ۱۳/ ستمبر ۱۹۳۱ء کو سیالکوٹ میں آل انڈیا کشمیر کمیٹی کا اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے بھی شمولیت فرمائی۔اس اجلاس میں عارضی معاہدہ کی روشنی میں کشمیر کی صورت حال پر غور کیا گیا اور مسلمانوں کو قربانی کے لئے تیار کرتے ہوئے خاص طور پر یہ فیصلہ کیا گیا کہ مسلمانان کشمیر حتی الامکان بہت جلد اپنے مطالبات ریاست کشمیر کے سامنے پیش کر دیں۔اور اسے آگاہ کر دیں کہ اگر ان مطالبات پر مناسب غور کرنے کے بعد ایک مہینہ کے اندر تسلی بخش