تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 493 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 493

تاریخ احمدیت جلدن 481 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیہ کشمیر میں قادیانی شرارت کی آگ لگائی واعظ گاؤں گاؤں گھومنے لگے۔چھوٹے چھوٹے ٹریکٹ چھپوائے گئے اردو میں بھی اور کشمیری زبان میں بھی اور انہیں ہزاروں کی تعداد میں چھپوا کر مفت تقسیم کیا گیا۔مزید بر آن روپیہ بھی بانٹا گیا"۔(ملاپ ۳۰/ ستمبر ۱۹۳۱ء صفحه ۵) اس پر اکتفا کرتے ہوئے ہندو پریس نے ایک طرف اہل کشمیر کو ڈرایا کہ قادیانی سازش بے نقاب ہو گئی ہے اب وہ اپنی تحریک سے ہاتھ کھینچ لیں۔چنانچہ لکھا۔”کشمیری مسلمانوں کو بھی دیکھنا چاہئے کہ وہ کن ٹھگولی کے پنجوں میں پھنس گئے ہیں۔اور کس طرح اپنے مہاراجہ کے خلاف ایک بھاری سازش کے کل پرزے بنے ہوئے ہیں۔یہ حالات ان کی آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہیں کشمیری مسلمانوں کو اب پر اکشچت (کفارہ - ناقل) کے طور پر اعلان کرنا چاہئے کہ وہ کسی قسم کے حقوق کا مطالبہ فی الحال نہیں کرتے جس حالت میں وہ اب ہیں اسی حالت میں رہیں گے “۔(ملاپ ۱۴/ اگست ۱۹۳۱ء صفحه ۵) دوسری طرف حکومت کو توجہ دلائی کہ حیرانی ہے کہ ریاست کشمیر کے خلاف شملہ میں بیٹھ کر جو سازش کی جارہی ہے (کشمیر کمیٹی کے قیام کی طرف اشارہ ہے۔ناقل ) یہ اسی پروگرام کی ایک مذ ہے۔حیرانی ہے کہ ریاست کشمیر کے خلاف اسی حکومت کے پایہ تخت میں بیٹھ کر سازش کی جارہی ہے جس حکومت کے لئے ریاست کشمیر کے حکمرانوں سے یہ معاہدہ کر رکھا ہے کہ وہ بیرونی دشمنوں سے کشمیر کی حفاظت کرے گی"۔(ملاپ - اگست ۱۹۳۱ء صفحہ ۵) یہ بھی لکھا۔"کشمیر کے چاروں طرف مسلمان حکومتیں ہیں۔کشمیر پر اگر اسلامی جھنڈا لہرایا تو گورنمنٹ کے لئے خطرناک ہو گا۔(ملاپ ۱۸/ اگست ۱۹۳۱ء صفحہ ۱۶) تیسری طرف ہندوؤں کو اشتعال دلایا کہ اگر کشمیر میں مسلمان غالب ہو گئے اور کشمیری ہندوؤں کو نقصان پہنچاتو ہندوستان کے ۲۸ کروڑ ہندوؤں کی حالت خطرے میں ہو جائے گی۔ہندوؤں کو مٹانے کی تیاری کشمیر میں ہو چکی ہے۔اب پنجاب کے ہندوؤں کو جاگنا چاہئے۔ورنہ ان کی حالت کشمیر جیسی ہو جائے گی"۔(ملاپ ۳۱ / اکتوبر ۱۹۳۱ء صفحه ۱۴) اسی طرح لکھا۔(ہندوستان کے ہندو) اگر اس ہندو ریاست کو بچانا چاہتے ہیں تو انہیں آرام طلبی کو چھوڑ کر جد و جہد کرنا ہو گی۔ورنہ بعد میں جموں و کشمیر کے ہندؤوں کے لئے آنسو بہانا بے سود ہو گا۔وقت ہے جاگو، سنبھلو اور راکھشوں ناپاک جانوروں یعنی مسلمانوں - ناقل) کے چنگل میں پھنسی ہوئی ہندو ریاست کو بچاؤ“۔(ملاپ ۱۴/ نومبر ۱۹۳۱ء صفحہ ۵) چوتھی طرف حکومت کشمیر کو توجہ دلاتے ہوئے کہا۔”جہاں تک ہندو ریاست کے استحکام کا معاملہ