تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 492
ت - جلد ۵ 480 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیہ (فصل هشتم) حکام ریاست اور ہندوؤں کا شر انگیز منصوبہ ، جماعت احمدیہ کے خلاف مہم ، آل انڈیا کشمیر کمیٹی کا اجلاس سیالکوٹ اور ریاست میں مسلمانوں کا قتل عام جس روز سے آل انڈیا کشمیر کمیٹی معرض وجود میں آئی مہاراجہ کشمیر ریاستی حکام اور ہندوؤں کی تمام کوششیں آل انڈیا کشمیر کمیٹی کو ختم کرنے اور صدر کشمیر کمیٹی اور جماعت احمدیہ کو بد نام کرنے کے لئے وقف ہو گئیں اور ہندو پریس نے پر زور پراپیگنڈا کرنا شروع کیا کہ کشمیر ایجی ٹیشن قادیانی سازش کا نتیجہ ہے۔چنانچہ بطور نمونہ چند اقتباسات درج کئے جاتے ہیں۔ہندو اخبار " ملاپ " (لاہور) نے لکھا۔قادیان کے خلیفہ جو خالص مذہبی آدمی بنتے ہیں وہ بھی کشمیر کے مسلمانوں کے گلے سے طوق غلامی اتارنے کے لئے لنگر لنگوٹے کس لیتے ہیں۔آج سے برسوں پہلے کشمیر کے گاؤں گاؤں میں قادیانیوں نے اپنے واعظ بھیج دیئے جن کا کام مسلمانوں کو احمدی بنانے کے علاوہ یہ بھی تھا کہ وہ حکومت کشمیر کے خلاف لوگوں کو بھڑکا ئیں اور بغاوت تیار کریں؟۔" قادیانی سازش کا نتیجہ ہے کہ کشمیر کے امن پسند مسلمان اب شورش اور شرارت اور بخارت کے شرارے بن چکے ہیں اب کشمیری مسلمانوں کو وہ پہلے جیسا صلح جو، میانہ رو اور حلیم الطبع انسان نہ سمجھو بلکہ قادیانی روپیہ نے قادیانی پراپیگنڈا نے اور قادیانی گدی کے خلیفہ کی حرص و آز نے ان کشمیری مسلمانوں کو مرنے مارنے پر تیار کر دیا ہے "۔مرزا قادیانی نے آل انڈیا کشمیر کمیٹی اس غرض سے قائم کی ہے۔تاکہ کشمیر کی موجودہ حکومت کا خاتمہ کر دیا جائے اور اس غرض کے لئے انہوں نے کشمیر کے گاؤں گاؤں میں پراپیگنڈا کیا۔انہیں روپیہ بھیجا ان کے لئے وکیل بھیجے شورش پیدا کرنے والے واعظ بھیجے۔شملہ میں اعلیٰ افسروں کے ساتھ ساز باز کر تا رہا۔(ملاپ یکم اکتو بر ۱۹۳۱ء صفحه ۵)