تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 488 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 488

تاریخ احمد بیت - جلد ۵ 476 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیہ ہے (فصل ہفتم) معاہدہ صلح اور حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کا مخلصانہ مشورہ حکام کشمیر نے مولانا ابو الکلام صاحب آزاد اور سرتیج بہادر سپرو کو اس لئے کشمیر بلایا۔تا ان کے اثر تحریک ختم کی جا سکے۔چنانچہ جیسا کہ مسٹر پریم ناتھ بزاز نے اپنی کتاب INSIDE) (KASHMIR کے صفحہ ۱۴۳ پر لکھا ہے کہ جناب آزاد نے کشمیری مسلم لیڈروں سے کہا کہ وہ اپنے فرقہ دارانہ معاملات کو سیاست سے نہ الجھا ئیں بالفاظ دیگر ایجی ٹیشن بند کر کے مہاراجہ کی ذات پر اعتماد کریں۔اس پر اخبار "کشمیری " لاہور (۷ / اگست ۱۹۳۱ء) نے لکھا کہ ”اگر مولانا ابو الکلام آزاد نے قوم کا اعتماد حاصل کرنا ہے تو وہ آل انڈیا کشمیر کمیٹی سے گفتگو کئے بغیر اس معاملہ میں دخل نہ دیں“۔مگر افسوس کہ سرینگر کے خود مسلمان لیڈر ان کی باتوں سے متاثر ہو گئے اور وزیر اعظم کشمیر ہری کشن کول کے دوست نواب سر مہر شاہ کے کہنے پر حکومت کشمیر سے ایک عارضی صلح نامہ کر لیا۔اس معاہدہ کی مندرجہ ذیل شرائط تھیں۔موجودہ ایجی ٹیشن بالکل بند کر دی جائے گی۔مساجد یا دوسرے مذہبی مقام پر ایسے پبلک جلسے -1 منعقد نہ کئے جائیں گے جن سے حکومت کے خلاف یا فرقہ وارانہ منافرت پیدا ہوتی ہو۔مساجد اور زیارت گاہوں میں عام اعلان کر دیا جائے گا کہ مسلمان بیرونی شورش سے متاثر نہ ہوں اور ہزہائیں کے جن سے انہیں اپنے جائز حقوق حاصل کرنے کی امید ہے وفادار رہیں گے۔بیرونی ہمدردوں سے درخواست کی جائے گی کہ مطالبات کے متعلق آخری تصفیہ تک کوئی ایسی کارروائی نہ کریں جس سے اس فضا میں جس کے مطالبات پر غور کرنے کے لئے ضرورت ہے کسی قسم کا تکدر پیدا ہو۔۴ اس سمجھوتہ سے رائج الوقت قوانین میں کوئی مداخلت نہ ہوگی۔اس سمجھوتہ کے لئے وزیر اعظم کی مشفقانہ اور ہمدردانہ امداد کے لئے ہم ان کے ممنون ہیں۔مطالبات کے متعلق ان سے پوری توجہ کی امید رکھتے ہیں۔(نوٹ) باوجود ہنزہائنس کی طرف