تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 487
تاریخ احمدیت۔جلد ۵ 475 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیہ صداقت و تحقیق ذہن نشین شده اند۔" یعنی میں نے اپنے قابل اعتماد مخلصین سے آنجناب کی ذات والا صفات کے عام مسلمانوں سے ہمدردی کے حالات سنے ہیں۔اور اخبارات میں بھی فتنہ ارتداد کے اوقات میں جو ایک مذہبی معاملہ تھا اور مسلمانان کشمیر کی مصیبت میں جو ایک سیاسی معاملہ تھا آپ کی عملی ہمدردی کا ظہور بار بار نظر سے گزرا ہے اور اپنے مخلصین کے اقوال جو آپ کی امان ذی شان سے وابستہ ہیں صحیح اور ٹھیک ٹھیک ذہن نشین ہوئے ہیں۔یہ تو نہایت اختصار کے ساتھ آل انڈیا کشمیر کمیٹی کی طبی اور مالی امداد کا تذکرہ ہے۔جہاں تک قانونی امداد کا تعلق ہے کمیٹی کے زیر انتظام جماعت احمدیہ کے قابل اور چوٹی کے وکلاء نے ایسے بے نظیر کارنامے انجام دیئے ہیں۔کہ تاریخ آزادی کشمیر میں ہمیشہ سنہری لفظوں سے یاد کئے جائیں گے۔لہذا اس پہلو پر ہم آئندہ ایک فصل میں بالتفصیل روشنی ڈالنا چاہتے ہیں۔اہل کشمیر تک مالی امداد پہنچانا فی ذاتہ ایک کٹھن مرحلہ تھا جس کی مشکلات کا اندازہ جناب میر غلام احمد صاحب کشفی کے اس واقعہ سے لگ سکتا ہے۔کہ تحریک کشمیر کے دوران مظلومین کشمیر کی مالی امداد کے سلسلے میں آپ ایک بار قادیان سے پانچ سو روپیہ دے کر جموں بھیجے گئے جہاں میر محمد بخش صاحب ایڈووکیٹ کشمیر کمیٹی کی طرف سے مقدمات کی پیروی میں مصروف تھے۔میر غلام احمد صاحب نے پانچ سو روپے اور اس کے ساتھ ایک چٹھی اپنے بوٹ کے تلوے میں سی لی راستوں میں تلاشیاں کی جاتی تھیں آپ رات پھر جموں چھاؤنی میں رہے۔اور صبح شہر میں داخل ہو کر دفتر کشمیر کمیٹی ( واقعہ اردو بازار) میں پہنچے اور بوٹ کا تکلو کھول کر نقدی مع خط میر محمد بخش صاحب کے حوالہ کر دی۔AT