تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 486 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 486

تاریخ احمدیت۔جلد ۵ - 474 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیه خادم مفتی ضیاء الدین عفی عنه از نواکدل سرینگر - انقلاب ۸/ ستمبر ۱۹۳۱ء " - مفتی مولوی عتیق اللہ صاحب کشمیری (پونچھ) نے لکھا۔آل انڈیا کشمیر کمیٹی نے جس خلوص اور ہمدردی کے ساتھ مظلوم مسلمانان ریاست جموں و کشمیر کی مالی، جانی قانونی امداد دی ، اس کے لئے ہمارے جسم کا ذرہ ذرہ زبان سپاس ہے۔ہم لوگ اس کمیٹی کی بے لوث مالی امداد کے تازیست ممنون رہیں گے اس کمیٹی نے شہداء کے پسماندگان کا خیال رکھا۔بتامی دایامی کی پرورش کی۔محبوسین کے پسماندگان کو مالی امداد دی ماخوذین کو قانونی امداد دی۔کارکنوں کو گرانقدر مشورے دیئے۔جنگلوں میں پہاڑوں میں جا کر مظلومین کی امداد کی ماخوذین کی اپیلیں دائر کیں اور ان کے مقدمات کی پیروی کی۔قابل ترین قانونی مشیر بہم پہنچائے۔ہندوستان اور بیرون ہند میں ہماری مظلومیت ظاہر کرنے کی جان توڑ کوشش کی۔ہماری آواز کو حکام بالا تک پہنچایا۔ہماری تسلی اور تسکین کی خاطر اشتہارات اور ٹریکٹ شائع کئے ہر وقت قابل اور موزون والسیر دیتے دنیائے اسلام کو ہمارے حالات سے آگاہ کر کے ہمدردی پر آمادہ کیا۔اخبارات کے ذریعہ سے ہماری مظلومیت کو ظاہر کیا"۔جناب سید حبیب صاحب مدیر سیاست " لاہور نے لکھا۔"مظلومین کشمیر کی امداد کے لئے صرف دو جماعتیں پیدا ہو ئیں۔ایک کشمیر کمیٹی دوسری احرار - تیسری جماعت نہ کسی نے بنائی نہ بن سکی۔احرار پر مجھے اعتبار نہ تھا۔اور اب دنیا تسلیم کرتی ہے کہ کشمیر کے یتامی مظلومین اور بیواؤں کے نام سے روپیہ وصول کر کے احرار شیر مادر کی طرح ہضم کر گئے۔ان میں سے ایک لیڈر بھی ایسا نہیں جو بالواسطہ یا بلا واسطہ اس جرم کا مرتکب نہ ہوا ہو۔کشمیر کمیٹی نے انہیں دعوت اتحاد عمل دی۔مگر اس شرط پر کہ کثرت رائے سے کام ہو اور حساب با قاعدہ رکھا جائے۔انہوں نے دونوں اصولوں کو ماننے سے انکار کر دیا۔لہذا میرے لئے سوائے از میں چارہ نہ تھا کہ میں کشمیر کمیٹی کا ساتھ دیتا۔اور میں یہ بہ بانگ دہل کہتا ہوں کہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب صدر کشمیر کمیٹی نے تندہی ، محنت، ہمت جانفشانی اور بڑے A- جوش سے کام کیا اور اپنا روپیہ بھی خرچ کیا اور اس کی وجہ سے میں ان کی عزت کرتا ہوں"۔نواب میجر سر محمد خان زمان خاں کے۔ہی۔آئی - ای فرمانروائے ریاست امب و ریاست ترنول (سابق صوبہ سرحد) نے حضرت خلیفتہ المسیح ایدہ اللہ تعالٰی کی خدمت میں ۶/ مارچ ۱۹۳۲ء کو ایک مکتوب میں لکھا۔هرگاه از مخلصین با عتماد خود حالات همدردی عامه مسلمین در ذات والا صفات آنجناب شنیده ام و در اخبارات نیز ظهور همدردی عمل در اوقات فتنه ارتداد که معامله مذهبی بود و مصیبت مسلمانان کشمیر که معالمه سیاسی بود بار بار از نظر گذشته و اقوال مخلصین خود که وابستگان امان آن ذیشان می باشند به