تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 472 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 472

تاریخ احمد بیت - جلد ۵ 460 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیه زخمیوں کے فوٹو لے۔چنانچہ وہاں پہنچ کر خفیہ طور پر تصاویر لی گئیں اور اس طرح ڈوگرہ حکومت کے مظالم کا زبردست ثبوت فراہم کر لیا گیا۔چنانچہ سرینگر اور جموں کے ۱۹۳۱ء کے خونچکاں واقعات سے متعلق جو تصاویر اس کتاب میں شائع کی جارہی ہیں۔وہ حضوری کی ہدایت پر لی گئی تھیں اور حضوری کی توجہ کی بدولت آج تک محفوظ ہیں۔اس بروقت اقدام کی اہمیت بہت جلد نمایاں ہو گئی۔حضور کا تار ملنے پر وائسرائے ہند نے ریاست کو تار دیا۔کہ جموں کے مسلمانوں پر گولی چلائی گئی ہے مگر حکومت نے جواب دیا کہ یہ غلط ہے جلوس پر معمولی لاٹھی چارج ہوا ہے۔یہی جواب وزیر اعظم کشمیر ہری کشن کول نے خواجہ حسن نظامی صاحب کو اپنے ۲۲/ اگست ۱۹۳۱ء کے مکتوب میں دیا۔چنانچہ اصل واقعات کو بالکل مسخ کرتے ہوئے لکھا۔" آپ تحریر فرماتے ہیں کہ بچوں کو جموں میں برچھیوں سے زخمی کیا گیا۔پرسوں چار نمائندگان مسلمانان مجھے ملنے آئے۔اور یہی شکایت میرے پاس کی میں نے فور ابذریعہ ٹیلیفون جموں سے پتہ کیا۔چنانچہ معلوم ہوا کہ مورخہ ۱۴ کر اگست کے دن خلاف قانون مسلمانوں نے جموں میں سیاہ جھنڈوں کے ساتھ جلوس نکالا۔۔۔جس پر پولیس کو مجبور ہو کر جلوس کو لاٹھی چارج سے منتشر کرنا پڑا۔۔۔لاٹھی چارج میں ۸ یا ۱۰ آدمیوں کو خراش لگے۔جن میں سے دو کو کسی قدر زیادہ ضرب آئی۔لیکن ایسی نہیں جنہیں ضرب شدید کہا جاسکے ہر دو کی حالت کل سے قریباً بالکل اچھی ہے۔اس واقعہ کو یہاں تک رنگ دیا گیا کہ گولی چل گئی۔اور پچاس ساٹھ آدمی ہلاک اور زخمی ہوئے برچھیوں اور سنگینوں سے۔اصلیت یہ ہے کہ کوئی برچھایا سنگین استعمال نہیں کی گئی"۔بالکل اسی قسم کی رپورٹ حکام کشمیر نے وائسرائے ہند کو بھجوائی۔۔۔کہ معمولی لاٹھی چارج ہوئی ہے۔یہ رپورٹ پہنچنے پر وائسرائے کے پولٹیکل سیکرٹری نے بذریعہ تا حضور کو اطلاع دی کہ حکومت کشمیر گولی چلنے سے بالکل انکار کرتی ہے۔مگر جب حضور نے حکومت ہند کے سامنے تصاویر رکھیں تو ڈوگرہ حکومت کی غلط بیانی بے نقاب ہو گئی۔