تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 471 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 471

تاریخ احمدیت۔جلد ۵ 459 تحریک آزادی کشمیر ا د ر جماعت احمدید | 1+ کامیاب احتجاجی مظاہرے ہوئے۔چنانچہ مورخ کشمیر منشی محمد الدین صاحب فوق لکھتے ہیں۔ما اگست کو یوم آزادی کے موقعہ پر مسلمانوں میں اتنا جوش و خروش تھا کہ اس کی نظیر ریاست کی سرزمین میں دوبارہ ملنی محال ہے "۔یوم کشمیر" کے موقعہ پر یہ پورے مظاہرے پورے امن و امان کے ماحول میں ہوئے البتہ جموں میں جب اس موقعہ پر جلوس نکالا گیا۔تو اس پر گولی چلا دی گئی۔اور ایک مسلمان شہید ہو گیا اور کئی ایک زخمی بھی ہوئے جن میں بچے بھی تھے۔اور مسجدوں پر حکومت نے قبضہ کر لیا۔قادیان میں یہ اطلاع اسی روز پہنچ گئی اور حضور نے اسی وقت مہاراجہ صاحب کشمیر کو ذاتی طور پر مداخلت کرنے اور وائسرائے ہند کو سخت اقدام کرنے کے لئے تار دیئے۔مہاراجہ صاحب کشمیر کو مندرجہ ذیل الفاظ میں تار دیا گیا۔قادیان ۴/ اگست جموں سے اطلاع ملی ہے کہ وہاں پر امن مسلم جلوس پر نہایت بے رحمی سے گولی چلا دی گئی ہے۔جس کے نتیجہ میں ایک شخص ہلاک ہو گیا ہے۔اور کئی زخمی ہوئے جن میں بچے بھی شامل ہیں۔مساجد پر افواج نے قبضہ کو رکھا ہے۔اگر یہ سچ ہے تو حکام کی یہ ستم رانی نا قابل برداشت ہے مسلمانوں کا ایک طبقہ پہلے ہی انتہائی تدابیر اختیار کرنے پر زور دے رہا ہے میں یو رہائی نس سے اپیل کرتا ہوں کہ قبل اس کے کہ حالات بالکل قابو سے باہر ہو جائیں۔جن سے مجبور ہو کر مجھے یا تو کشمیر کمیٹی کی صدارت انتہا پسند طبقہ کے حوالے کرنی پڑے یا سخت قدم اٹھانے پر مجبور ہونا پڑے۔آپ ذاتی طور پر اس میں مداخلت کریں۔اس وقت تمام دنیا کی آنکھیں کشمیر کی طرف لگی ہوئی ہیں۔کہ دیکھئے ان لاکھوں الا بے بسوں کے ساتھ جنہیں قدرت نے یو رہائی نس کی رعایا بنایا ہے۔کیا سلوک روا ر کھا جاتا ہے"- وائسرائے ہند کے نام دیئے جانے والے تار کے الفاظ یہ تھے۔" قادیان ۱۴/ اگست جموں سے تاز آیا ہے۔کہ کشمیر ڈے کے سلسلہ میں مسلمانوں کے پر امن جلوس پر ریاستی فوج نے گولی چلا دی۔جس کے نتیجہ میں ایک مر گیا۔اور کئی زخمی ہو گئے۔جن میں بچے بھی شامل ہیں۔مسجدوں پر فوجوں کا قبضہ ہے اگر یہ درست ہے تو یہ مظالم ناقابل برداشت ہیں۔اگر حکومت نے مداخلت نہ کی تو معاملہ میں اہم پیچیدگیاں پیدا ہو جائیں گی۔جس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ حالات بالکل قابو سے باہر ہو جائیں گے میں پہلے بھی معاملہ کی اہمیت و نزاکت پر زور دے چکا ہوں۔اور موجودہ واقعات کو مد نظر رکھتے ہوئے اور اس حقیقت کے پیش نظر کہ مسلمانوں کا ایک طبقہ پہلے ہی انتہائی کارروائی کئے جانے پر زور دے رہا ہے۔مجھے یا تو آل انڈیا کشمیر کمیٹی کی صدارت سے استعفیٰ دے کر اسے انتہا پسندوں کے حوالہ کرنا پڑے گا۔یا پھر سخت قدم اٹھانے پر رضامند ہونا پڑے گا"۔تار کے علاوہ حضور نے اسی وقت اپنا ایک نمائندہ جموں روانہ کر دیا۔اور فوٹوگرافر بھی بھیجوایا تا