تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 457
تاریخ احمدیت جلد ۵ 445 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیہ قائم کی گئی تھی۔جس میں ہندوستان اور بیرون ہندوستان کے اخبارات اور رسائل موجود رہا کرتے تھے جماعت احمدیہ کے کارکن ، مبلغین اور وکلاء اس سلسلہ میں مظلومین کشمیر کی خدمات اور تحریک آزادی کے کام کے سلسلہ میں پیش پیش تھے۔میرا تاثر یہ ہے کہ تحریک آزادی کشمیر ۳۲-۱۹۳۱ء میں جو ذہنی انقلاب اور عملی تحریک ابھری اس میں سب سے زیادہ جماعت احمدیہ کی مخلصانہ کوششوں کا عمل دخل تھا۔یہ ایک واقعہ ہے کہ اس وقت ریاست کے لوگ ڈوگرہ جبر و تشدد کے تحت اتنے رہے ہوئے تھے۔کہ لوگوں کو تنظیم سے سیاسی تحریکیں چلانے اور سیاسی کام کرنے کا طریقہ ہی معلوم نہ تھا۔جماعت نے ہی اہل ریاست کو تنظیم سے عملا کام کرنے کا طریقہ سکھایا - I میں نے جس تنظیم ، مستعدی اور خلوص سے اس زمانہ میں تحریک آزادی کشمیر کے لئے جماعت احمدیہ کو کام کرتے دیکھا۔وہ اب تک میں پاکستان میں بھی نہ دیکھ سکا۔جماعت احمدیہ نے اس سلسلہ میں مالی اور قانونی امداد بھی کی اور ہر رنگ میں تحریک آزادی کو کامیاب بنانے کے لئے اینا رو اخلاص سے بے مثال کام کیا ہے "۔کشمیر شیخ محمد عبداللہ صاحب کی کشمیر میں مسلمانوں کی تنظیم کا نیا دور اس وقت صدر کشمیر کمیٹی سے پہلی ملاقات شروع ہوتا ہے جب شیخ محمد عبد اللہ صاحب "شیر کشمیر " دوسرے زممائے کشمیر کے ساتھ قلعہ اور تنظیم کے سنہری دور کا آغاز ہری پربت سے رہا ہو گئے اور انہوں نے صدر سیر آل انڈیا کشمیر کمیٹی سے براہ راست رابطہ قائم کرنے کے بعد نئے عزائم اور نئے ارادوں کے ساتھ ریاست کے مسلمانوں کی قیادت اور رہنمائی کا کام دوبارہ اپنے ہاتھ میں لینا قبول کیا۔حضرت خلیفۃ المسیح الثانی سے شیخ محمدعبداللہ صاحب کی کسی طرح پہلی ملاقات ہوئی اور اس وقت کیا کیا تجاویز زیر غور آئیں؟ یہ تاریخ آزادی کشمیر کا ایک مخفی مگر نہایت اہم واقعہ ہے جس کی تفصیل حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کے الفاظ میں درج ذیل کی جاتی ہے۔" جب آل انڈیا کشمیر کمیٹی قائم ہو گئی اور میں نے یہ فیصلہ کیا کہ آل انڈیا کشمیر کمیٹی کو آزادانہ طور پر باہر کام نہیں کرنا چاہئے۔بلکہ کشمیر اور جموں کے لوگوں سے مل کر کام کرنا چاہئے تو میں نے کشمیر اور جموں کے نمائندے قادیان بلوائے اور ان سے مشورہ لیا۔کوئی پندرہ سولہ آدمی آئے میں نے ان لوگوں سے پوچھا کہ کیا کوئی اور ایسا آدمی رہ تو نہیں گیا۔جس کا کشمیر میں اثر ہو۔انہوں نے کہا کہ شیخ عبد اللہ ایک نوجوان ہیں جن کا نوجوان لڑکوں پر اچھا خاصہ اثر ہے۔اور وہ بول بھی سکتے ہیں۔نڈر بھی ہیں۔میں نے پوچھا کہ آپ لوگ ان کو کیوں ساتھ نہیں لائے۔انہوں نے جواب دیا کہ ان کے متعلق